Loading
راولپنڈی کے تھانہ چکلالہ کے علاقے شاہ خالد کالونی فضل ٹاؤن میں سسرال میں مبینہ تشدد و بدسلوکی کا نشانہ بنائی جانے والی 20 سالہ لڑکی کے بیان پر سسرالی رشتہ داروں کی خلاف مقدمہ درج کرلیاگیا، خاوند،سسر اور ساس تحویل میں لے لیے گیے دیور کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری ہیں۔
پولیس کی جانب سے بازیاب کروائی جانے والی خاتون نایاب زہرہ کے بیان پر خاوند حسن اور سسر و ساس اور دیور احسن کے خلاف درج کیا گیا ہے جس میں نایاب زہرہ کا کہناتھاکہ عمر 20 سال ہے شادی 5 ماہ قبل حسن سے ہوئی تھی۔
شادی کے بعد سے ہی میرا خاوند اور سسرال والے مجھے مار پیٹ کرتے رہتے تھے مجھے لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور کرتے تھے تاہم میں گھر بچانے کے لئے برداشت کرتی رہی 25اکتوبر کو گھر پر موجود تھی خاوند کام پر گیا ہوا تھا کہ میری ساس ، سسر اور دیور احسن نے مجھے مارا پیٹا اور میرے سر کے بال کاٹ دیے۔
میرا خاوند واپس آیا تو میں نے اس کو بتلایا کہ آپکے گھر والوں نے مجھے مارا پیٹا میرے بال کاٹ دیے اور میرے ساتھ سخت زیادتی کی ہے تاہم میرے خاوند نے میری بات کا یقین نہ کیا اور مزید مار پیٹ کر کےمجھے گھر کے اندر بند کر دیا۔
میں موقع پا کر گھر سے نکل کر پڑوس میں آگئی اور گھر والوں کو اطلاع دی۔
نایاب زہرہ نے مزید کہا کہ میرے سر ، ساس ، دیور اور خاوند نے میرے بال کاٹ کر مار پیٹ کر کے زیادتی کی ہے جنکے خلاف دعویدار ہوں قانونی کاروائی کی جائے۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ خاتون کے بیان پر اسکا میڈیکل پراسزکروایاگیا ہے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے خاوند ،سسر اور ساس پولیس تحویل میں لے لیے گیے ہیں۔
مزید تفتیش شروع کردی گی ہے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھ کر تفتیش عمل میں لائی جارھی ہے جبکہ چوتھے ملزم جو خاتون کا دیور احسن ہے کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل