Wednesday, October 28, 2026
 

اردن کے حملوں کے بعد کشیدگی میں کمی، شام نے اہم سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھول دی

 



دمشق: شام نے اردن کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کم کرنے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مرکزی سرحدی گزرگاہ بدھ کے روز دوبارہ کھول دی۔ یہ پیش رفت اردنی فورسز کی جانب سے شام کے جنوبی علاقوں میں حملوں کے بعد سامنے آئی ہے، جن کے باعث دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات میں شدید تناؤ پیدا ہوگیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اردن نے یہ حملے ایک چرچ پر مہلک فائرنگ کے واقعے کے ردعمل میں کیے تھے۔ اردنی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ کارروائی میں 20 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے اور شدت پسند تنظیم داعش کے اسلحے کا ایک بڑا ذخیرہ تباہ کردیا گیا۔ شام نے اپنے جنوبی علاقوں پر اردن کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول خلاف ورزی قرار دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ گئی، جسے دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کا سنگین ترین بحران قرار دیا گیا۔ تاہم اردن نے منگل کو کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے شام کے لیے ’بہت احترام‘ کا اظہار کیا اور کارروائی کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کیا۔ تعلقات میں بہتری کے بعد سرحدی گزرگاہ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کی اہم علامت سمجھا جارہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل