Wednesday, October 28, 2026
 

سینیٹ کمیٹی نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل مزید مؤخر کر دیا

 



سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے موجودہ قوانین میں کئی حفاظتی اقدامات پہلے سے موجود ہونے کے باعث قانون سازی میں تکرار سے گریز کرنے کے مطالبے پر غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام ک ابل مزید غور کے لیے مؤخر کردیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت ہوا جس میں میں غیرت کے نام پر قتل کے بل کا جائزہ لیا گیا، اجلاس میں کم عمر ملزمان کے نظام انصاف، مسلم فیملی قوانین اور وفاقی پراسیکیوشن سروس سے متعلق نجی بلوں کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر ضمیر حسین، سینیٹر محمد بلال بدر اور سینیٹر کامران مرتضیٰ نے شرکت کی، اجلاس میں غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے بل کی محرک سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی اور غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے بل پر سینیٹ کمیٹی میں غورکیا گیا، جہاں 2016 کی قانون سازی کے باوجود غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے قانون میں خامیوں کی نشان دہی کی گئی۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات ہر سال سینکڑوں انسانی جانیں لے رہے ہیں، غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے قانونی سقم دور کرنا اور ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔ کمیٹی اجلاس میں جرگوں اور روایتی رسم و رواج کے ذریعے غیرت کے نام پر قتل پر اکسانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی تجویز دی گئی، غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے لیے سخت سزائیں اور فوجداری ذمہ داری بڑھانے کی مجوزہ ترامیم کا معاملہ زیر بحث آیا۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ موجودہ قوانین میں کئی حفاظتی اقدامات پہلے سے موجود ہیں، قانون سازی میں تکرار سے گریز کیا جائے، تحقیقات، استغاثہ اور قوانین پر عمل درآمد میں خامیاں بنیادی مسئلہ ہیں۔ سینیٹ کمیٹی ارکان نے کہا کوئی رسم، روایت یا معاشرتی رواج انسانی جان لینے کا جواز نہیں بن سکتا، غیرت کے نام پر قتل سنگین جرم، معاشرتی رویوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی، غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں فساد فی الارض سے متعلق قانونی دفعات پر مؤثر عمل درآمد پر زوردیا گیا۔ کمیٹی نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل مزید غور کے لیے مؤخر کر دیا اور چیئرمین کمیٹی فاروق ایچ نائیک نے لا ڈویژن کو موجودہ قوانین اور مجوزہ ترامیم پر جامع قانونی بریفنگ کی ہدایت کی۔ سینیٹ کمیٹی نے فیملی کورٹس ترمیمی بل 2026، جووینائل جسٹس سسٹم ترمیمی بل 2026، مسلم فیملی لاز ترمیمی بل 2026، وفاقی پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل 2026 بھی مؤخر کر دیا گیا۔ اجلاس میں قانون و انصاف کمیشن پاکستان سے زیر التوا رپورٹس جلد طلب کرنے کی ہدایت کی گئی ،سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین کی لا ڈویژن کو قانون و انصاف کمیشن سے رابطہ تیز کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل