Loading
ایف آئی اے امیگریشن کراچی نے جعلی اطالوی ریزیڈنس پرمٹس اور ایگزٹ اسٹیمپس کی نشاندہی کرتے ہوئے عمرہ ویزا کی آڑ میں غیر قانونی امیگریشن کی کوشش ناکام بنا دی۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران سعودی عرب سے واپس آئے سیالکوٹ کے دو بھائیوں کو مزید تحقیقات کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل (اے ایچ ٹی سی) کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دونوں مسافر 6 اکتوبر 2026ء کو سیالکوٹ ایئرپورٹ سے عمرہ ویزوں پر سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔ مسافروں نے بیان دیا کہ ان کے والد غلام میران اور اٹلی میں مقیم ایجنٹ طیب نے ان کے لیے غیر ملکی سفری دستاویزات کا انتظام کیا تھا۔ منصوبے کے تحت دونوں بھائیوں نے کوسوو پہنچ کر پناہ کی درخواست دینا اور وہاں سے غیر قانونی طور پر اٹلی جانے کی کوشش کرنا تھی، جس کے لیے ایجنٹ کو 12 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔
ترجمان کے مطابق ابتدائی جانچ پڑتال کے دوران اطالوی ریزیڈنس پرمٹس اور میلان کے ایگزٹ اسٹیمپس مشکوک پائے گئے۔ یو وی لائٹ کے ذریعے دستاویزات کی جانچ میں بھی ان کی اصلیت سے متعلق شکوک سامنے آئے۔ کوسوو کے امیگریشن حکام نے بھی مذکورہ پرمٹس کو مشکوک قرار دیتے ہوئے دونوں مسافروں کو داخلے سے روک دیا اور واپس بھیج دیا۔
کراچی ایئرپورٹ پر تفصیلی جانچ کے دوران ایک مشتبہ اطالوی ریزیڈنس پرمٹ، واٹس ایپ چیٹس سے متعلق معلومات، کوسوو میں ہوٹل کی بکنگ کی دستاویزات اور 550 یورو بھی سامنے آئے۔
ایف آئی اے کے مطابق دونوں بھائیوں کو سفری دستاویزات کی تصدیق، مبینہ ایجنٹ کے کردار، مالی لین دین اور غیر قانونی امیگریشن کی کوشش سے متعلق مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے اے ایچ ٹی سی کراچی کے حوالے کر دیا گیا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل