Loading
جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگادی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے تمام تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو ہوشیار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر یونیورسٹی سے متعلق معلومات شیئر کرنے سے روک دیا ہے۔
انتظامیہ نے ملازمین کو پابند کیا ہے کہ جامعہ کراچی سے متعلق کوئی بھی معلومات یا سرکاری دستاویز مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ یا فارورڈ نہیں کی جائے گی جبکہ خلاف ورزی کرنے والے ملازم کے خلاف انضباطی اور تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
جامعہ کراچی کے رجسٹرار ڈاکٹر عمران احمد صدیقی کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ مختلف سرکاری خطوط اور دفتری احکامات بالخصوص ملازمین/افسران کے "تبادلے و تعیناتی، اضافی چارجز اور معطلی" سے متعلق دستاویزات، بغیر اجازت سوشل میڈیا گروپس میں شیئر کیے جا رہے ہیں۔
نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ جامعہ کراچی کے تمام تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کو ہدایت کی جارہی ہے کہ وہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر کسی بھی سرکاری دستاویز یا معلومات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ یا فارورڈ نہ کریں اور نہ ہی کسی غیر مجاز شخص کے ساتھ شیئر کریں۔
جاری نوٹیفکیشن میں ملازمین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان ہدایات کی کسی بھی خلاف ورزی کو انتظامیہ کی جانب سنجیدگی سے لیا جائے گا اور قابلِ اطلاق قوانین کے تحت تادیبی / انضباطی کارروائی کی جاسکتی ہے جس میں گورنمنٹ سرونٹ کنڈیکٹ رولز 1964 کے رول 18 کے تحت کارروائی بھی شامل ہے۔
مزید یہ کہ عوامی سطح پر جاری کرنے کے لیے مختص تمام معلومات صرف جامعہ کراچی کے سرکاری سوشل میڈیا پیجز یا دیگر مجاز ذرائع کے ذریعے ہی شیئر کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل چیف سیکریٹری سندھ کی صدارت میں منعقدہ صوبے کی سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کے اجلاس میں بھی ایک یونیورسٹی کے سربراہ نے معلومات تک رسائی کے ایکٹ پر نظر ثانی کی تجویز دی تھی جسے چیف سیکریٹری کی جانب سے نظر انداز کردیا گیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل