Loading
سال 2023ء میں یونان کشتی سانحہ میں 155 پاکستانیوں کی ہلاکت کے معاملے میں 40 کے قریب ایف آئی اے افسران کی بحالی کے خلاف عدالت نے ایف آئی اے کی اپیل منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ایف آئی اے کو بھیج دیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیا ایف آئی اے قانون کے مطابق انکوائری کرکے ذاتی شنوائی کا موقع دے، ایف آئی اے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر افسران کو بحال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔
سپریم کورٹ میں جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایف آئی اے کی طرف سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راجہ شفقت عباسی پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ فیڈرل سروس ٹربیونل نے برطرفی کے احکامات محض تکنیکی اور طریقہ کار کی خامیوں کی بنیاد پر کالعدم قرار دیے، لاہور، کراچی اور ملتان کے ہوائی اڈوں پر اس وقت تعینات افسران اپنی ملازمت کی ذمہ داریوں کے تحت ٹکٹوں، پاسپورٹس، ویزوں اور لیبیا جانے کے مقصد کی مناسب جانچ پڑتال کے پابند تھے۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے موقف اپنایا کہ لیبیا کوئی سیاحتی مقام نہیں بلکہ جنگ زدہ ملک ہے، افسران کی ذمہ داری تھی کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتے کہ مختلف ہوائی اڈوں سے 286 سے زائد افراد لیبیا کیوں جا رہے تھے؟ متعلقہ افسران کی جانب سے سنگین کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، غفلت کے باعث انسانی اسمگلروں کو پاکستانی شہریوں کو پاکستان سے لیبیا اور وہاں سے سمندری راستے کے ذریعے یورپ منتقل کرنے کا موقع ملا، سانحہ میں 155 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر محکمانہ انکوائری کے دوران طریقہ کار کی کوئی خامی رہ گئی تھی تو اس بنیاد پر ملزم افسران کو ملازمت پر بحال کرکے مکمل طور پر بری الذمہ قرار دینا درست نہیں، زیادہ سے زیادہ ایف آئی اے کو نئی سرے سے انکوائری کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے مگر ان افسران کو نوکری پر بحال کرنا درست نہیں۔
عدالت نے ایف آئی اے کی اپیل منظور کرتے ہوئے معاملہ دوبارہ ایف آئی اے کو بھیج دیا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا ایف آئی اے قانون کے مطابق انکوائری کرکے ذاتی شنوائی کا موقع دے، ایف آئی اے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر افسران کو بحال کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ سانحہ میں مبینہ ملوث تقریبا 40 ایف آئی اے افسران کو نوکری سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، نوکری سے نکالنے کا فیصلہ ایف آئی اے نے محکمانہ انکوائری کے بعد کیا، افسران نے نوکری سے نکالے جانے کے خلاف سروس ٹربیونل سے رجوع کیا، سروس ٹریبونل نے ایف آئی اے افسران کو بحال کرنے کا حکم دیا، ایف آئی اے نے افسران کی بحالی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل