Loading
اسرائیلی وزیرِاعظم نے ایران کو اپنے ملک کے لیے وجودی خطرہ قرار دیتے ہوئے امریکی صدر کے ساتھ تعاون کے ذریعے اس خطرے کو ختم کرنے کی امید ظاہر کی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اس وقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران سے لاحق خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک منفرد موقع ملا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدھ کو صحافیوں سے گفتگو میں امریکا کو اپنا شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایران کے خلاف ایک حتمی کارروائی پر زور دیا۔
تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کسی نئے فوجی آپریشن کی نوعیت، حتمی تاریخ یا اس حوالے سے طے شدہ منصوبے کی تفصیلات نہیں بتائیں جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے بھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یاد رہے کہ اسرائیل میں آج ہی عام الیکشن ہوئے جس میں ٹرن آؤٹ نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے اور ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو کے انتخابی اتحاد کو معمولی برتری حاصل ہے تاہم انھیں حکومت بنانے کے لیے مزید کسی جماعت کو شامل کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ان انتخابات میں فتح کے لیے نہ صرف صدر ٹرمپ سے حمایتی بیانات جاری کروائے تھے بلکہ الیکشن سے دو روز قبل ایران پر حملے کا منصوبہ بھی رکھا جس پر اسرائیلی فوج کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل