Loading
جے یو آئی ف کی رکن عالیہ کامران نے کہا ہے کہ جب کل مولانا تقریر کررہے تھے تو خواجہ آصف ہاتھ جوڑ رہے تھے، اس وقت جواب دیتے، لگتا ہے ان کو کوئی ڈائریکشنز آئی ہیں۔
قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کو معافی بھی معافی مانگنی چاہئے، انہوں نے کہا یہ وقت آگیا مولانا خواتین کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں آئین کے مطابق یہاں بیٹھی ہوں ، ان کو معافی مانگنی چاہئے، ان کو اپنی وزارتوں پر فوکس کرنا چاہیے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ حنیف عباسی خانہ بدوش ہیں ، جہاں گھاس پھوس ملے ادھر چلے جاتے ہیں، خواجہ آصف جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے کلیے پر چلتے ہیں ، ن لیگ کی 2 تہائی اکثریت تھی اور مارشل لاء لگی، جے یو آئی ف نے مذمت کی ہے ان لوگوں نے تو ایک رارداد تک منظور نہیں کی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ضیاء الحق کو چیلنج کیا تم اس کی پیداوار ہو، اس مسلم لیگ ن کی کیا تاریخ ہے ، ہم اور آپ پی ٹی آئی کو کہتے تھے کہ خان جہاں جاتا ہے وہاں آرمی چیف بھی ساتھ ہوتا ہے، اب شہباز شریف اگر ایسا کرے تو بہت اچھا لیڈر ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف نے کہا تھا زرداری کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹوں گا ، ہم چاروں طرف سے حصار میں ہیں، چین سے اعتماد کا فقدان ہے، بھارت، ایران اور افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہیں، مولانا کو افغانستان آپ نے بھیجا آپ نااہل ہیں ان معاملات کو مزید نہیں چلا سکے۔
مولانا غفور حیدری نے کہا کہ مشرف آیا تو مولانا فضل الرحمان اور میں قید میں تھے آپ بتائیں کہ آپ نے ان کے خلاف کیا تحریک چلائی، اسپیکر صاحب میری باتیں شائد آپ کو اچھی نہیں لگ رہیں ، جیل میں سب نے جانا ہے شائد آپ کی باری بھی آ جائے۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم میں جب اکٹھے ہوئے تو ہم نے کہا لانگ مارچ کرتے ہیں کچھ روز سڑک پر بیٹھتے ہیں ، مسلم لیگ ن کے لوگوں نے کہا ہمارے کارکنان سڑکوں والے نہیں ہیں، ہمارے لوگ پاکستان کی وجہ سے شہید ہو رہے ہیں، ہم نے فتوی دیا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانا جائز نہیں ہے، ہم پر حملے ہوئے اور اسی وجہ سے ہوئے، اگر ہم دہشتگردوں کے ساتھ ہیں تو پھر حملے آپ نے کروائے ہونگے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان خانہ بدوشوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپنے ماضی کی طرف دیکھو ، مولانا صاحب کے تقریر کے نتیجے میں یہ خانہ بدوش اکٹھے کیے جاتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل