Loading
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تیل بردار جہاز سمندری بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگئے تاہم جہازوں کی شناخت اور عملے کی صورت حال سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے بتایا کہ تینوں جہاز ایران کی جانب سے غیر مجاز قرار دیے گئے جنوبی بحری راستے سے گزر رہے تھے۔ آگ لگنے کے بعد جہازوں کو آبنائے ہرمز کے جنوبی ساحل کے قریب چھوڑ دیا گیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کی بحریہ نے مزید کہا کہ ان جہازوں نے اپنے ریڈار اور راستے کی نشاندہی کرنے والے نگرانی کے نظام کو بند کر رکھا تھا اور انتباہ کے باوجود ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ ان واقعات کے باعث سمندر میں آلودگی پھیلی ہے، جس کے ذمہ دار جہازوں کے مالکان اور عملہ ہے جنھوں نے غیرقانونی راستہ اپنایا اور انتباہ کی پاسداری نہیں کی۔
بیان میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے خواہش مند جہازوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری اطلاعات اور معلومات پر بھروسا نہ کریں اور اشتعال انگیز کارروائی سے گریز کریں۔
یاد رہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے متعلق ایرانی میڈیا کی اطلاعات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی فوج بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ مرکزی بحری راستوں سے بارودی سرنگیں ہٹا دی گئیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل