Loading
شہر قائد میں بھتہ خوری کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ سامنے آیا ہے ، سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 2025 میں جنوری سے ستمبر تک بھتہ خوری کے 56 واقعات جبکہ رواں سال 2026 میں جنوری سے ستمبر تک بھتہ خوری کے 112 واقعات سامنے آئے ہیں جس میں 100 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ان بھتہ خوری کے واقعات سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا شہر میں تاجر برادری ، صنعتکار ، بلڈر ، ہوٹل مالکان اور دکاندار کس حد تک ان بھتہ خوری کی وارداتوں سے عاجز آچکے ہیں۔
رواں سال 9 ماہ کے دوران بھتہ خوری کی 112 وارداتوں کا رپورٹ ہونا نہ صرف اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے جس کا قیام ہی بھتہ خوری کے واقعات اور مقدمات کی تفتیش کرنا ہے بلکہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے ان دعوؤں کی بھی نفی ہے جس میں وہ شہر میں جرائم کی کمی کے دعوے کرتے سنائی دیتے ہیں۔
شہر میں بھتہ خور ایک بار پھر سے سر اٹھا رہے ہیں اگر بروقت انھیں پوری قوت سے نہ کچلا گیا تو صورتحال مزید تشویشناک بھی ہو سکتی ہے۔
سی پی ایل سی کی جانب سے گزشتہ سال 2025 میں جاری اعدا و شمار کے مطابق جنوری سے ستمبر تک 9 ماہ کے دوران بھتہ خوری کے 56 واقعات رپورٹ ہوئے۔
جنوری میں بھتہ خوری کے 11 واقعات ، فروری میں 4 ، مارچ میں 9 ، اپریل میں 5 ، مئی میں 3 ، جون میں 7 ، جولائی میں 5 ، اگست میں ایک جبکہ ستمبر بھتہ خوری کے 11 واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سال 2026 میں اسی دورانئے جنوری سے ستمبر تک 9 ماہ کے دوران مجموعی طور پر بھتہ طلب کرنے کے 112 واقعات رپورٹ ہوئے۔
سی پی ایل سی کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری میں 19 ، فروری میں سب سے زیادہ 27 واقعات ، مارچ میں 6 ، اپریل میں 9 ، مئی میں 10 ، جون میں 9 ، جولائی میں 18 ، اگست میں 8 جبکہ ستمبر میں بھتہ خوری کے 6 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 2025 کے اکتوبر میں بھتہ طلب کرنے کے 18 واقعات رپورٹ ہوئے تھے تاہم سی پی ایل سی کی جانب سے رواں سال اکتوبر کے اعداد و شمار جاری کیے جانے کے بعد ہی سال 2025 اور سال 2026 کے ماہ اکتوبر کا موزانہ کیا جا سکے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل