Friday, October 30, 2026
 

اسلام آباد؛ جے یو آئی سے منسلک متعدد مدارس کو سی ڈی کے نوٹسز جاری

 



کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد نے جمعیت علمائے اسلام پاکستان سے منسلک متعدد مدارس کو بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ سی ڈی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے منسلک متعدد مدارس میں بلڈنگ کنٹرول قوانین کی مبینہ طور پر خلاف ورزیوں کی گئی ہے کہا گیا ہے کہ مختلف مدارس کو غیر قانونی تعمیرات اور ضابطوں کی خلاف ورزیوں پر نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ سی ڈی اے نے اسلام میں قائم مدرسہ اختر العلوم، بلال ٹاؤن، کورنگ نالہ، کھنہ ڈاک کو منظور شدہ بلڈنگ پلان کے بغیر تعمیرات کرنے کا مرتکب قرار دیا ہے۔   اسلام آباد میں قائم مدرسہ اختر العلوم کو 15 روز کے اندر تعمیراتی نقشے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے تنبیہ کی گئی ہے کہ دوسری صورت میں دیگر عمارت سیل کرنے کی کارروائی کی جائے گی۔ اسی طرح ادارہ معارف اسلامیہ، شریعہ ربانیہ، تفی القرآن، مکان نمبر 3، اسٹریٹ نمبر 6، سیکٹر F-8/3 میں غیر قانونی تعمیرات کی نشان دہی کی گئی ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ مذکورہ مدرسے میں سیٹ بیکس پر غیر قانونی تعمیرات اور چھت پر غیر مجاز تعمیرات کی گئی ہیں۔   سی ڈی اے نے مدرسے کی عمارت کو رہائشی استعمال کے بجائے مدرسے کے طور پر استعمال کرنے پر بھی اعتراض کیا ہے اور مذکورہ مدرسے کی انتظامیہ کو تمام خلاف ورزیاں 15 روز میں ختم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ مدرسے کو سی ڈی اے کی جانب سے واضح انتباہ کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں عمارت سیل کرنے، جرمانے اور الاٹمنٹ منسوخی کی کارروائی ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد میں بلڈنگ کنٹرول قوانین پر عمل درآمد کے لیے سی ڈی اے کا مدارس سمیت تمام عمارتوں کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سی ڈی اے نے مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ میں بھی غیرقانونی تعمیرات اور قواعد کی خلاف ورزیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے نوٹس چسپاں کیا گیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کو سی ڈی اے نے گھر میں سیٹ بیکس پر غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کی ہدایت کی ہے اور خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دے دی ہے اور واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں خلاف ورزیاں ختم نہ کرنے پر عمارت سیل یا غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کی کارروائی ہوگی۔ سی ڈی اے نے امان اللہ محمد یونس کو عمارت کے مالک کے طور پر نوٹس جاری کیا ہے جبکہ 18مارچ 2019 کو بھی مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا گیا تھا۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود نے ردعمل میں کہا ہے کہ پشاور میں کورکمانڈر کے سامنے تجاوزات کی نشان دہی پر انتقامی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں اور جب نشان دہی کا کوئی جواب نہ ملا تو مخالفین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔ مولانا اسجد محومد نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے ایک شخص کے انتقامی جذبات کی تسکین کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، سیاسی اختلافات کو ذاتی انتقام میں تبدیل کرنا قابل تشویش ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل