Loading
ہیکرز نے دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب30 کروڑ ڈالر چوری کرلیے جبکہ ماہرین نے اس کا الزام شمالی کوریا پر عائد کرتے ہوئے اسے تاریخ کی سب سے بڑی مالی ڈکیتی قرار دیا ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس میں ڈکیتی کی خبر رپورٹ ہوتے ہی کرپٹو کرنسی کی قیمتوں میں کمی آگئی اور بائنانس نے رقم نکلوانے کی سہولت عارضی طور پر معطل کردی اور اعلان کیا کہ نقصانات پورے کرنے کے لیے کمپنی اپنے فنڈز استعمال کرے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایل سلواڈور میں قائم ٹیتر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت یافتہ ورلڈ لبرٹی فنانشل سمیت اسٹیبل کوائن جاری کرنے والے اداروں نے چوری شدہ اثاثوں کا تقریباً نصف حصہ منجمد کردیا۔
ایکسچینج نے کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں اور چند متاثرہ اثاثے منجمد کرنے کے لیے شراکت دار اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے اور اب تک تقریباً 3 ارب ڈالر کے اثاثوں کا سراغ لگا لیا گیا ہے۔
بائنانس نے اس سے قبل کہا تھا کہ اگلے48 گھنٹوں میں رقم نکلوانے کی سہولت بحال ہونے کا امکان ہے تاہم کمپنی نے باقی 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی رقم کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بائنانس کی شریک چیف ایگزیکٹو افسر یی ہی نے بتایا کہ 3 ارب ڈالر کی رقم کمپنی کے صارفین کے مجموعی اثاثوں اور ظاہر کردہ ذخائر کا محض2 فیصد ہے۔
بائنانس نے کہا کہ نقصانات پورے کرنے کے لیے اندرونی طور پر کمپنی کے تقریباً6 ارب 34 کروڑ ڈالر کے فنڈز مختص کر رکھے ہیں۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق بائنانس نے سیکیورٹی کی خلاف ورزیوں کی صورت میں صارفین کے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ایک ارب ڈالر کا بٹ کوائن ریزرو فنڈ بھی قائم کر رکھا ہے۔
بائنانس کے بانی چانگ پینگ ژاؤ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ کمپنی کے پاس اسپیس ایکس کے ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے حصص بھی موجود ہیں۔
بائنانس کے دوسرے شریک چیف ایگزیکٹو افسر رچرڈ ٹینگ نے کہا کہ یہ سیکیورٹی خلاف ورزی ایک پیچیدہ سائبر حملے کا نتیجہ تھی، جس میں ایک نہیں بلکہ متعدد عناصر ملوث تھے، اس حملے میں ایک لیپ ٹاپ ہیک کیا گیا اور ایک ایسا نقصان دہ سافٹ ویئر بھی استعمال کیا گیا جو اپنی سرگرمی کے شواہد مسلسل مٹاتا رہا، جس کے باعث حملے کا سراغ لگانے اور تحقیقات کا عمل مزید مشکل ہوگیا۔
رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ ہیکرز نے لین دین کی منظوری دینے والے ایک نظام میں ردوبدل کرکے بائنانس کے زیر کنٹرول انٹرنیٹ سے منسلک ہاٹ والٹ سے رقم نکالنے میں کامیابی حاصل کی اور یہ لین دین معمول کے منظوری کے طریقہ کار سے گزرے بغیر ہوئی۔
انہوں نے صارفین کو یقین دلایا کہ کمپنی اس مسئلے کو حل کرنے، صارفین کے نقصانات پورے کرنے اور ان کے اعتماد پر پورا اترنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل