Loading
پشاور سے کراچی تک 1850 کلومیٹر کا فاصلہ 24 روز میں دوڑ کر طے کرنے والے ریکارڈ ہولڈر ایتھلیٹ مسعود خان کا پشاور پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا۔
اس موقع پرڈی جی اسپورٹس نے کہا کہ مسعود خان نے اپنی غیر معمولی محنت، عزم اور حوصلے سے نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ پشاور سے کراچی تک 1850 کلومیٹر کا طویل فاصلہ 24 دن میں طے کرنا ایک بڑا کارنامہ ہے، جو نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کھیلوں اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی سرپرستی کے لیے پرعزم ہے اور ایسے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نومبر میں محکمہ کھیل کے زیراہتمام بی آر ٹی روٹ پر میراتھون ریس کا انعقاد سمیت دیگر کھیلوں کے مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔
انہوں نے محکمہ کھیل کی جانب سے مسعود خان کیلئے پانچ لاکھ روپے کا بھی اعلان کیا۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پشاور داﺅد خان نے کہا کہ مسعود خان نے جس جذبے، ہمت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ فخر ہے۔ ان کی کامیابی سے نوجوانوں کو یہ پیغام ملتا ہے کہ محنت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے مشکل سے مشکل ہدف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
مسعود خان نے بتایا کہ روزانہ 70 سے 85 کلومیٹر تک دوڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ تاہم، سفر کا ہر دن ایک جیسا نہیں تھا۔ اس کامیابی کے لیے انہوں نے 90 روز تک روزانہ تقریباً آٹھ گھنٹے ٹریننگ کی۔
ان کے مطابق وہ اب تک فل اور ہاف میراتھن ریسز میں پاکستان بھر میں 49 میڈلز حاصل کرچکے ہیں جن میں 24 گولڈ میڈلز شامل ہیں۔ اس سے قبل وہ پشاور سے اسکردو تک تقریباً 808 کلومیٹر کا فاصلہ بھی دوڑ کر طے کرچکے ہیں، جسے مکمل کرنے میں انہیں نو دن لگے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل