Loading
شہر قائد کے علاقے اسٹیل ٹاؤن سے اغوا کے بعد سفاکیت سے قتل کیے گئے مقتول نوجوان زین العابدین کے والد کی شکایت پر اے وی سی سی پولیس کے انویسٹی گیشن افسر کو مبینہ طور پر رشوت وصول کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا۔
مقتول نوجوان کے والد محمد خان نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کے انویسٹی گیشن افسر رضوان پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے مجھ سے مجموعی طور پر 22 ہزار روپے وصول کیے ہیں جس میں 2 ہزار روپے کھانے کے نام پر بھی لیے گئے۔
انھوں نے بتایا کہ ایک تو میرا بیٹا سفاکیت کے ساتھ اغوا کے بعد قتل کر دیا گیا تو دوسری جانب تفتیشی افسر کا رویہ انتہائی تکلیف کا باعث بنا۔ انھوں ںے بتایا کہ تفتیشی افسر نے اب تک صرف 3 بار ملاقات کی ، تفتیشی افسر کی مبینہ عدم دلچسپی کے باعث ملزمان سے تاوان کی رقم اور دیگر اشیا بھی برآمد نہیں کرائی جاسکی۔
انھوں نے بتایا کہ جمعرات کو تفتیشی افسر کی غفلت و لاپروائی کی شکایت ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر سے کی تو انھوں نے انویسٹی گیشن افسر رضوان کو معطل کر کے نیا آئی او مقرر کیا ہے تاہم نئے آئی او نے ابھی تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔
مقتول نوجوان زین العابدین کے غمزدہ والد نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے لخت جگر کی رہائی کی خاطر 5 لاکھ روپے تاوان ادائیگی کے باوجود بھی میرا بیٹا بازیاب نہیں ہوسکا تھا جبکہ ہمیں خوفزدہ کرنے کے لیے بیٹے کے ہاتھ کا پنجہ بھی کاٹ کر بھیجا گیا۔
مقتول نوجوان کے والد محمد خان نے وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے واضح رہے کہ سعودی پلٹ نوجوان زین العابدین 14 اکتوبر کو اسٹیل ٹاؤن سے پراسرار طور پر لاپتہ ہوا تھا جس کے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ 15 اکتوبر کو اسٹیل ٹاؤن پولیس نے درج کر کے تفتیش اے وی سی سی پولیس کو منتقل کی تھی جبکہ مقتول کی لاش 16 اکتوبر کو گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر بن قاسم کے علاقے چھتری گراؤنڈ سے اے وی سی سی پولیس نے برآمد کرائی گئی۔
ملزمان میں شامل فیصل مقتول کا قریبی رشتے دار ہے جسے پولیس نے اس کے ساتھی انصر سمیت گرفتار کیا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل