Loading
یہ دنیا کی اٹل اور کڑوی حقیقت ہے کہ ’’لعل‘‘ ہمیشہ صرف طاقتور کے پاس محفوظ ہوتا ہے، جبکہ غریب کے پاس لعل نہ صرف غیر محفوظ ہوتا ہے بلکہ عموماً غریب کی جان کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے یا پھر اسے ایسے ذلت آمیز سمجھوتوں پر مجبور کر دیتا ہے کہ اس کے پاس ذلت کو عزت افزائی سمجھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں جنگیں ہمیشہ سرحدوں، نظریات یا انسانی حقوق کے نام پر نہیں لڑی گئیں۔ بہت سی جنگوں اور عالمی کشمکش کے پیچھے وسائل، تجارتی راستوں، منڈیوں اور معاشی مفادات کا بھی بڑا کردار رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب کوئی طاقتور ملک کسی کمزور ملک کے وسائل میں دلچسپی لیتا ہے تو اس کی زبان پر عموماً امن، جمہوریت، استحکام اور انسانی حقوق جیسے خوب صورت الفاظ ہوتے ہیں، لیکن جب انھی اصولوں کا اطلاق اپنے مفادات پر کرنے کا وقت آتا ہے تو ان الفاظ کے معنی بھی بدلنے لگتے ہیں اور ان ممالک کے تیور بھی بدلنے لگتے ہیں۔
اب ذرا تیل کو ہی دیکھ لیجیے۔ بیسویں صدی میں تیل جدید معیشت، صنعت اور عالمی سیاست کی سب سے اہم قوتوں میں شامل ہو گیا۔ مشرق وسطیٰ کے تیل نے عالمی طاقتوں کی توجہ اس خطے کی طرف مبذول کرائی۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک نے اپنی دولت سے بلند و بالا عمارتیں، جدید شہر، شاہراہیں اور ترقی کے بے شمار منصوبے تعمیر کیے، لیکن اسی خطے کی تاریخ یہ سوال بھی اٹھاتی ہے کہ قدرتی دولت کسی ملک کو معاشی طور پر مضبوط تو بنا سکتی ہے، مگر کیا وہ اسے لازماً سیاسی طور پر خودمختار بھی بنا دیتی ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دولت اور اختیار دو الگ چیزیں ہیں۔
ایک ملک کے پاس دنیا کے بہترین معدنی ذخائر ہو سکتے ہیں، لیکن اگر اسے اپنی سلامتی، دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور عالمی منڈیوں کے لیے دوسروں پر غیر معمولی انحصار کرنا پڑے تو اس کی دولت کے باوجود اس کی فیصلہ سازی محدود ہو سکتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بیرونی تعلق غلامی ہے یا ہر بین الاقوامی معاہدہ استحصال، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ معاہدے کی شرائط کون طے کرتا ہے، فایدہ کس کو پہنچتا ہے اور مشکل وقت میں فیصلے کرنے کی آزادی کس کے پاس رہتی ہے؟
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا میں طاقت صرف فوج، میزائلوں اور جنگی طیاروں کا نام نہیں۔ طاقت مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم یافتہ آبادی، موثر سفارت کاری، قابلِ اعتماد اداروں اور قومی اتحاد سے بھی پیدا ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی دولت کو صنعت، تعلیم، تحقیق اور انسانی ترقی میں تبدیل کر لے تو وہ اپنے قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے دوسروں کی طاقت کا محتاج رہنے کے بجائے اپنی طاقت پیدا کر سکتا ہے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ غریب ملکوں میں اکثر قدرتی وسائل کو قومی ترقی کی بنیاد بنانے کے بجائے فوری آمدنی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ خام مال نکالا جاتا ہے، بیچ دیا جاتا ہے اور پھر اگلے سال کے بجٹ کے لیے اسی عمل کو دہرانا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ترقی یافتہ ممالک انھی وسائل کو ٹیکنالوجی، صنعت، مصنوعات اور عالمی منڈیوں میں اپنی برتری قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یوں ایک ملک زمین سے لعل نکالتا ہے، جبکہ دوسرا اس لعل کو تراش کر کہیں زیادہ قیمت پر فروخت کرتا ہے۔
عالمی سیاست میں مفادات اور وسائل کے تحفظ میں طاقت کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے، اس کے مقابلے میں اگر غریب کے گھر میں لعل ہو تو دنیا کی نظر اس کے لعل پر ہوتی ہے اور اگر وہ اس کی حفاظت نہ کر سکے تو اسے اپنے گھر کی دہلیز پر بھی اپنی ملکیت ثابت کرنا پڑتی ہے اور شاید یہی اس دنیا کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ غریب کو اپنی دولت سے پہلے اپنی اوقات ثابت کرنا پڑتی ہے، جبکہ طاقتور اپنی اوقات کا تعین بھی اپنی دولت، طاقت اور دھونس سے کرتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل