Loading
اسرائیلی پارلیمنٹ کی ایک سو بیس نشستوں میں سے جس کے پاس اکسٹھ نشستیں ہوں وہ حکومت بنا سکتا ہے۔ستائیس اکتوبر کے عام انتخابات میں نیتن یاہو کے اتحاد کو تریپن ، ان کے حریف جنرل (ریٹائرڈ ) گادی آئزنکوٹ کے اتحاد کو اڑتالیس اور اسرائیلی عرب جماعتوں کو مجموعی طور پر انیس نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اگر آئزنکوٹ کا اتحاد عرب جماعتوں سے مل کر حکومت تشکیل دینا چاہے تو اس کے پاس مجموعی طور پر سڑسٹھ نشستیں ہوں گی جو اکسٹھ نشستوں کے میجک نمبر سے چھ زائد ہیں۔
اگر اسرائیل واقعی وہ جمہوریت ہوتی جسے مغرب گذشتہ اٹھہتر برس سے ’’ مشرقِ وسطی کی آمریت کے سمندر میں واحد جمہوری جزیرہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے آج تک نہیں تھکا تو اس اعتبار سے اب تک اسرائیل میں نیتن یاہو کی جگہ آئزنکوٹ وزارتِ عظمی کا دعوی کر چکے ہوتے۔
مگر جو بات فلسطینیوں کو روزِ اول سے معلوم ہے وہ شائد اب مغرب کو بھی پتہ چل جائے کہ اسرائیل آمریت کے سمندر میں جمہوریت کا مثالیہ نہیں بلکہ ایک نسل پرست صیہونی فاشسٹ ماڈل ہے جس میں بیس فیصد اسرائیلی عرب شہریوں کے لیے کوئی سیاسی کھڑکی نہیں کیونکہ اسرائیل کے غیر تحریر شدہ آئین کے مطابق اسرائیل خالص یہودی ریاست ہے۔
کہنے کو عرب اسرائیلی قانوناً برابر کے شہری ہیں مگر جس طرح نیتن یاہو کے اتحاد نے ان پر غیر ملکی امداد (قطر ) سے الیکشن چرانے کا الزام لگایا ہے اور نیتن یاہو کے مخالف اتحاد نے کسی بھی ممکنہ مخلوط حکومت میں عرب اسرائیلی جماعتوں کو شامل کرنے کے تصور کو برملا مسترد کر دیا ہے اس سے کسی بھی ماجھے ساجے کو اسرائیلی جمہوریت کے معیار کا اندازہ ہو سکتا ہے۔صیہونی مانیں نہ مانیں مگر عرب جماعتوں کی تاریخی انتخابی کامیابی سے یہ بھانڈہ بھی چوک میں پھوٹ گیا کہ اسرائیل صرف یہودیوں کا وطن ہے۔چنانچہ اب نیتن یاہو اور حواریوں نے اپنی توپوں کا رخ اسرائیلی عربوں کی جانب کردیا ہے اور اس الزام کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے کہ ان جماعتوں نے اتنی حیران کن کامیابی کیسے حاصل کی کہ سارے انتخابی اندازوں کو چوپٹ کردیا۔کچھ بعید نہیں کہ فاشست ریاست اسرائیلی عرب جماعتوں کو ہی کالعدم قرار دے دے۔
عرب اسرائیلیوں ووٹروں نے بندوق اٹھائے بغیر بیلٹ بکس کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اسرائیل دو قومی ریاست ہے جس میں بیس فیصد عرب اب بھی رہتے ہیں اور وہ مقبوضہ علاقوں کے پچاس لاکھ بدقسمت فلسطینیوں سے اپنا روحانی ناتا منقطع کرنے کو ہرگز تیار نہیں۔
یہ عرب اسرائیلی بھی جنرل آئزنکوٹ کی طرح نیتن یاہو ٹولے سے نجات چاہتے ہیں مگر آئزنکوٹ اتحاد ان اسرائیلی عربوں سے بھی نجات چاہتا ہے۔ البتہ آئزنکوٹ اتحاد کو اس پر قطعاً اعتراض نہیں کہ عرب جماعتیں حکومت میں شامل ہوئے بغیر اور برابری کے حقوق مانگے بغیر غیر مشروط پارلیمانی حمائیت کرتے ہوئے آئزنکوٹ اتحاد کو اعتماد کا ووٹ دیں۔
اس حمائیت کے بدلے اگر منتخب عرب جماعتیں غزہ میں نسل کشی بند کرنے ، مقبوضہ مغربی کنارے پر دندنانے والے مسلح یہودی آباد کاروں کو لگام دینے، مزید یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے اور زراعت و زمین پر مسلسل قبضے کے عمل کو روکنے اور دو ریاستی حل کے تنِ مردہ میں جان ڈالنے کا مطالبہ کریں تو غدار کہلائیں۔
جو جماعتیں نیتن یاہو سے جان چھڑانے کے یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھی ہیں انھوں نے اپنی انتخابی مہم میں نیتن یاہو کی کرپشن ، عدلیہ پر شب خون کی کوشش، آمرانہ طرزِ حکومت اور نیتن یاہو کی خارجہ پالیسی کے سبب اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی بدنامی کو تو ووٹ حاصل کرنے کے لیے مدعا بنایا مگر غزہ میں جو ہوا یا مغربی کنارے پر جو ہو رہا ہے یا جو دو ریاستی حل ہونا چاہیے ۔یہ سب نکات دونوں جانب کے انتخابی مینیو سے غائب رہے۔
چنانچہ اسرائیلی فلسطینیوں نے پہلی بار اپنی بقا کی خاطر ان انتخابات میں ووٹ کی طاقت کا بھرپور استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ صیہونیت کا تر نوالہ بننے کے لیے مزید تیار نہیں۔ ان عرب اسرائیلیوں نے نام نہاد جمہوریت کی میز انھی پر الٹ دی جنھوں نے اٹھتر برس سے اس میز پر ’’ مشرقِ وسطی کی واحد جمہوریت ‘‘ کا گلدان سجا رکھا تھا۔
عرب ووٹر بالاخر سمجھ گئے کہ کسی کی بھی حکومت بنے وہ درجہ دوم کے شہری ہی رہیں گے۔اگر وہ تل ابیب کی سڑک پر عربی بولیں گے تو ان پر کوئی بھی نسل پرست حملہ کر سکتا ہے اور پولیس حملہ آور کا ہی ساتھ دے گی۔
اسرائیلی دروز واحد عربی النسل برادری ہے جسے فوج میں بھرتی ہونے کی اجازت ہے مگر یہ وفاداری بھی ان کے ماتھے سے مشکوک غیر صیہونی ہونے کا داغ نہیں مٹا سکتی۔
انتہائی گھاگ نیتن یاہو کو ہٹانا اتنا آسان بھی نہیں۔حکومت سازی میں ناکامی کی صورت میں بطور نگران وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور ان کے نسل پرست ساتھی ایران سے جنگ چھیڑ کر نئے ممکنہ انتخابات ملتوی کروا سکتے ہیں۔نیتن یاہو دراصل یہ کام انتخابات میں اپنی کمزور پوزیشن کو مضبوط بنانے کی چال کے طور پر پولنگ سے پہلے ہی کرنا چاہتا تھا مگر اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوج کے سربراہ جنرل ایال ضمیر نے نیتن یاہو کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بننے سے انکار کردیا۔جنرل ایال اب کسی بھی دن برطرف ہو سکتا ہے۔
نیتن یاہو کے دو قریبی اتحادی قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر اور وزیر خزانہ بیزلل مسترخ اگر حکومت سے باہر بھی ہو جائیں تب بھی وہ گذشتہ تین برس میں اپنے آبادکار حامیوں کو اسلحے کے ایک لاکھ سے زائد لائسنس جاری کر کے ریاست در ریاست بن چکے ہیں۔امریکی سی آئی اے نے اگست میں اسرائیل میں خانہ جنگی کے امکانات پر جو وارننگ رپورٹ جاری کی وہ خواہ مخواہ نہیں تھی۔
ایک امریکی یہودی تھنک ٹینک جیوش ووٹرز ریسورس سینٹر کے سروے کے مطابق ہوا اس قدر بدل ہو چکی ہے کہ پینتیس برس تک کی عمر کے نصف امریکی یہودی آج کے اسرائیل کو خالص نسل پرست ریاست قرار دیتے ہیں۔یہ نوجوان چاہتے ہیں کہ اسرائیل اپنی بقا کی خاطر اگر اسرائیل کے عرب شہریوں کو بھی عملاً مساوی حقوق دے تو دنیا شائد اسرائیل پر دوبارہ اعتبار کرنا شروع کر دے۔
نئی امریکی یہودی پود کے برعکس اسرائیل میں اٹھارہ برس کی عمر کے جن پانچ لاکھ ووٹروں نے پہلی بار پولنگ اسٹیشن کا منہ دیکھا ان میں سے اکثر کا ووٹ انتہائی نسل پرست جماعتوں کو پڑا ہے جن کی قیادت بن گویر اور مسترخ جیسے بدبوداروں کے ہاتھ میں ہے۔
اگر نیتن یاہو کا انتہائی نسل پرست ٹولہ اقتدار سے عارضی طور پر ہٹ جائے تو مغربی دنیا اور میڈیا اب تک کے انسانیت سوز جرائم پر چونا پھیرنے میں لمحہ نہیں لگائیں گے۔دیکھئے دیکھئے جو کچھ بھی ہوا وہ نیتن یاہو کے سبب ہوا۔اب اس کی جگہ ’’ معقول ‘‘ قیادت آ گئی ہے۔لہٰذا اسرائیل کو سات اکتوبر سے پہلے کی طرح گلے لگا لیا جائے۔اسرائیل کے مغربی پرستار اتنا بھی صبر نہیں کریں گے کہ پہلے نئے ہاتھی ( آئزنکوٹ اتحاد ) کے کھانے اور دکھانے کے دانت گن لیں۔
آیا نئی قیادت غزہ کے بارے میں کم از کم ٹرمپ امن فارمولے پر حرف بحرف عمل کرے گی ؟ مقبوضہ مغربی کنارے پر مسلح یہودی آبادکاروں کو لگام دے گی اور نئی بستیوں کی تعمیر روک دے گی ؟ دو ریاستی حل کے عمل کی بحالی کے لیے کچھ نہ کچھ سیاسی اشارے دے گی ؟ جنوبی لبنان اور جنوبی شام کے مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹے گی ؟ نیتن یاہو ٹولے کے بارے میں بین الاقوامی جرائم کی عدالت کے وارنٹس کا سنجیدگی سے نوٹس لے گی ؟ نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی تکمیل کرے گی ؟ کیا ایران کے بارے میں نئی حکومت کا رویہ نیتن یاہو سے قدرے مختلف ہو گا ؟
اگر ان میں سے آدھے سوالات کا جواب ہاں میں ہے تو پھر کہا جا سکتا ہے کہ واقعی اسرائیل کے علاقائی زاویہ نظر میں کچھ اعتدال آیا ہے۔ورنہ ایک نیتن یاہو کی جگہ آئزنکوٹ کی شکل میں دوسرا نیتن یاہو بھگتنے کے لیے تیار رہئیے۔بس اتنا فرق آئے گا کہ جو کام آج تک کند چھری سے ہو رہا ہے اس چھری پر مقتول کی آسانی کے لیے ذرا سی چکناہٹ لگ جائے گی۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل