Saturday, October 31, 2026
 

نئے یونٹس کے معاملے کی سنجیدگی کی وجہ سے مخالفین کے لہجے سخت ہو رہے ہیں، مصطفی کمال

 



وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ایمانداری سے کہتا ہوں موجودہ سرکاری نظام نہیں چل سکتا، نئے انتظامی یونٹس کو بنانے میں جتنی دیر ہوگی اتنا ہی ذیادہ نقصان ہوگا، نئے انتظامی یونٹس کو سنجیدہ لیا جارہا ہے اسی وجہ سےحریف کے لہجے سخت ہو رہے ہیں۔ کراچی کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعتراف کرتا ہوں کہ کراچی کے ساتھ ذیادتی ہوتی ہے، خون جلا کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کراچی کیلئے فریاد کرنا چھوڑ دیں کسی کو فرق نہیں پڑتا، اہلیان کراچی کما کر دے رہے ہیں اور پھر بھی وفاق سے بھیک مانگ رہے ہیں، پاکستان کو چلانےاور بچانے کیلئےپاکستان موجودہ رائج ماڈل پر نہیں چلایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی بیوروکریسی پر کراچی والوں کی آمد سے ناگواری گزرتی ہے، پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی تائید کرتے ہیں، وفاق سے سیلز ٹیکس کی مد میں کراچی کو اگر براہ راست رقم ملتی تو اسکا حجم 230 ارب روپے ہوتا، کراچی بندرگاہوں سے سیس کا حجم 190 ارب روپے ہے جو انفراسٹرکچر پر صرف ہوناہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ مردم شماری میں گھپلے کرکے کراچی کی آبادی کو کم کیا گیا، کراچی کے تقریبا صرف دو ٹیکسز سے سالانہ 884 ارب روپےاور16سال میں 3ہزار ارب روپے بنتے ہیں ، کراچی کی آبادی 2017 کی مردم شماری کا نمبر ایک کروڑ ساٹھ لاکھ تھا، کراچی کی آبادی 2023 کی مردم شماری کا نمبر ایک کروڑ 30لاکھ تھا، وزیر اعلیٰ سندھ نےکراچی کی آبادی کو  چھ سال میں 30لاکھ کم کردیا، حکومت سندھ ہمارے وجود کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں بنیادی سہولیات کہاں سے ملیں گی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان کو چلانے والوں کو احساس ہو گیا ہے کہ گورننس کا نظام نہیں چل سکتا، یہ ہماری وجہ سے نہیں بلکہ پاکستان کے حالات سے ہوا ہے، چوون فیصد ایکسپورٹ کرنے والوں کو اسلام آباد جانا پڑتا ہے، دودھ دینے والی گائے کو چارہ تو کھلائیں پانی تو پلائیں، آکٹرائے کو 2.5 فیصد سیلز بڑھا کر ڈسٹرکٹ کو براہ راست رقم دینے کا انتظام بنایا تھا، اس کا چھٹا حصہ اس سال 230 ارب روپے بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر سیس کے 190 ارب روپے بنتے ہیں ، آپ سارا پیسہ این ایف سی میں لے جایا گیا، این ایف سی میں اس سال کراچی کا حصہ 884 ارب بنتا ہے، سال 2010 سے گنا جائے تو یہ 3000 ارب بنیں گے، سولہ سال قبل 300 ارب شہر پر خرچ ہوئی رقم کے آج تک گیت گائے جارہے ہیں، تین ہزار ارب خرچ ہوجاتے تو کراچی کا کیا حال ہوتا، کراچی خون رس رہا ہےتو پاکستان خون رس رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وسائل کی کمی نہیں ہے۔ اس سال صوبوں کو 8884 ارب روپے ملے ہیں، سترہ سالوں میں سندھ کو 22 ارب روپے ملے ہیں، یہ اتنا خطیر فنڈ ہے کہ پچاس مرتبہ سندھ بلڈوز کرکے دوبارہ بنایا جاسکتا ہے، ڈریپ سے پہلے ادویات کی رجسٹریشن کیلئے بھاری رشوت دینی پڑتی تھی، ڈریپ کو ڈیجیٹل کرنے سے اب 21 دنوں میں آن لائن ادویات کی رجسٹریشن ہوجاتی ہے، کراچی حیدرآباد نئی موٹر وے اسی سال بنے گی،  نادرن بائی پاس کو دوہرا کیا جارہا ہے۔ وزیر صحت نے کہا کہ جعلی ادویات کو پکڑنے کیلئے موبائل ایپ بنارہے ہیں جس کو نومبر میں متعارف کردیا جائیگا، وزارت کے ڈیٹا بینک میں 86 ہزار ادویات کا ڈیٹا جمع کرلیا گیا ہے، کینسر کی دوا 1.5لاکھ روپے کی تھی۔ تجویز دی گئی کہ 2لاکھ کردی جائے، قیمت نہ بڑھانے کی وجہ سے وہ دوا شیلف سے غائب ہوگئی، آج مریض کینسر کی دوا کو ایجنٹ کے ذریعے 4.5 لاکھ روپے میں خرید رہے ہیں۔ مصطفی کمال  نے کہا کہ ایمانداری سے کہتا ہوں موجودہ سرکاری نظام نہیں چل سکتا ہے، نئے انتظامی یونٹس کو بنانے کیلئے جتنی دیر ہوگی اتنا ہی ذیادہ نقصان ہوگا، نئے انتظامی یونٹس کو سنجیدہ لیا جارہا ہے اسی وجہ سےحریف کے لہجے سخت ہورہے ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل