Saturday, October 31, 2026
 

پاک ۔اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام،  22 ممالک کے مندوبین کی شرکت

 



5 روزہ پاک۔اقوام متحدہ بین الاقوامی کانفرنس کا اختتام ہوگیا، جس میں 22 ممالک کے مندوبین سمیت 250 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی۔ بین الاقوامی کانفرنس میں خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے پر زور دیا گیا۔ سپارکو کے مطابق کانفرنس میں قبل از وقت انتباہی نظام کو مزید مؤثر بنانے کی سفارش کی گئی۔ 5 روزہ کانفرنس کے دوران 17 سیشنز اور 67 تکنیکی پریزنٹیشنز پیش کی گئیں، جبکہ 10 کلیدی خطابات اور 5 پینل مباحثوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے پاک۔اقوام متحدہ کانفرنس کی اختتامی تقریب میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ردعمل دینے کے بجائے پیشگی تیاری پر توجہ دینا ہوگی۔ سیٹلائٹ ڈیٹا، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قدرتی آفات کی پیشگی نشاندہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتباہ ایسا ہونا چاہیے جو متاثرہ مقام اور آبادی کی واضح نشاندہی کرے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سائنسی معلومات کو بروقت فیصلوں اور عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ناگزیر ہے۔ سیلابی علاقوں اور تجاوزات کی سیٹلائٹ کے ذریعے مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے۔ چیئرمین سپارکو نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی کی حقیقی افادیت بروقت فیصلوں اور عملی اقدامات میں ہے۔ انہوں نے اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ نمائندہ اقوام متحدہ نے کہا کہ خلائی ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے لیے عالمی تعاون اور علم کا تبادلہ اہم ہے۔ سپارکو کی جانب سے کانفرنس میں پاکستان اسپیس فار کلائمیٹ اقدام بھی پیش کیا گیا۔ سپارکو کے مطابق پاکستان کی خلائی صلاحیتیں موسمیاتی نگرانی اور آفات کے خطرات کے جائزے میں معاون ثابت ہوں گی۔ کانفرنس میں آفات سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی تعاون کے فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ کانفرنس میں کمزور اور متاثرہ آبادیوں تک بروقت انتباہ پہنچانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ 5 روزہ پاک۔اقوام متحدہ کانفرنس کے اختتام پر سب کے لیے قبل از وقت انتباہ کے عالمی وژن کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل