Saturday, October 31, 2026
 

سفر کا نیا دور

 



انسان نے ہمیشہ فاصلے کم کرنے اور سفر کو آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔ گھوڑے اور اونٹ سے شروع ہونے والا سفر ریل گاڑی، موٹر کار، بس اور ہوائی جہاز تک پہنچا اور ہر نئی ایجاد نے انسانی زندگی میں انقلاب برپا کیا۔ تاہم، جدید شہروں میں بڑھتی آبادی، ٹریفک کا دباؤ، سڑکوں پر ضایع ہونیوالا وقت اور فضائی آلودگی اب بھی بڑے مسائل ہیں۔ ایسے میں اڑنے والی ٹیکسیوں کا تصور مستقبل کی شہری نقل و حمل کے ایک نئے امکان کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنیوالے برسوں میں سڑکوں کے بجائے فضا میں سفر شہری زندگی کا معمول بن سکے گا اور کیا پاکستان کے بڑے شہر بھی اس جدید سہولت سے فایدہ اٹھا سکیں گے؟ اڑنے والی ٹیکسیوں کو عموماً ای وی ٹی او ایل (eVTOL) کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے برقی طیارے ہیں جو عمودی طور پر پرواز کرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں بجلی سے چلنے والی موٹریں اور متعدد پنکھے یا روٹر استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد روایتی ہوائی جہاز کی جگہ لینا نہیں بلکہ مختصر فاصلے کے ایسے سفر کو آسان بنانا ہے جن میں سڑکوں پر طویل وقت صرف ہوتا ہے۔ مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ طیاروں کی ساخت، مسافروں کی گنجائش اور کنٹرول کے طریقے مختلف ہیں۔ بعض میں پائلٹ موجود ہوتا ہے، جبکہ کچھ منصوبوں میں خودکار پرواز کی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اس ٹیکنالوجی پر تحقیق، تجربات اور سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ امریکا سمیت کئی ملکوں میں ان طیاروں کی تیاری، پائلٹوں کی تربیت، فضائی ٹریفک کے انتظام اور قانونی منظوری کے لیے ضابطے تشکیل دیے جا رہے ہیں۔ تاہم، کسی طیارے کا نمونہ تیار ہوجانا یا آزمائشی پرواز کرلینا تجارتی سروس کے آغاز کی ضمانت نہیں۔ اس کے لیے تکنیکی جانچ، فضائی قابلیت کی منظوری، تربیت یافتہ عملہ اور جامع حفاظتی انتظامات ضروری ہیں، لہٰذا اس ٹیکنالوجی کی کامیابی کا اندازہ تشہیری دعوؤں کے بجائے اس کی حفاظت، عملی کارکردگی اور قانونی حیثیت سے لگایا جانا چاہیے۔ پاکستان میں بھی جدید فضائی نقل و حرکت کے امکانات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل متبادل ذرائع نقل و حمل کی اہمیت واضح کرتے ہیں، اگر مستقبل میں اڑنے والی ٹیکسیاں محفوظ، قابل اعتماد اور معاشی طور پر قابل عمل ثابت ہوتی ہیں تو پاکستان بھی ان سے فایدہ اٹھا سکتا ہے۔ کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں ملازمت پیشہ افراد، کاروباری شخصیات، طلبہ اور مریض روزانہ ٹریفک کی اذیت سے گزرتے ہیں۔ ایسے حالات میں فضائی ٹیکسیاں ہوائی اڈوں تک آمدورفت، کاروباری مراکز کے درمیان رابطے اور بعض ہنگامی خدمات کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے نمایاں فوائد میں وقت کی بچت، مختصر فاصلے کے سفر میں آسانی اور بعض حالات میں سڑکوں پر ٹریفک کے دباؤ میں کمی شامل ہیں۔ بعض طیارے شور کم کرنے کے لیے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، صرف بجلی سے چلنے کی بنیاد پر انھیں مکمل طور پر ماحول دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بجلی کی پیداوار، بیٹریوں کی تیاری، ان کی عمر اور توانائی کی مجموعی کھپت بھی ماحولیاتی اثرات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس لیے ان کے حقیقی فوائد کا تعین جامع سائنسی جائزے سے ہی ممکن ہوگا۔اڑنے والی ٹیکسیوں کے لیے مخصوص لینڈنگ مقامات بھی درکار ہوں گے، جنھیں ورٹی پورٹس کہا جاتا ہے۔ یہ محض عمارتوں کی چھتوں پر جگہ مختص کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ وہاں بجلی کی فراہمی، چارجنگ، دیکھ بھال، آگ سے تحفظ، مسافروں کی سہولت اور ہنگامی رسائی کے انتظامات بھی ضروری ہوں گے۔ کراچی جیسے شہر میں بلند عمارتوں، ساحلی علاقوں، ہوائی اڈوں اور گنجان آبادی کے اوپر پرواز کے لیے خصوصی منصوبہ بندی درکار ہوگی۔ فضائی حدود میں موجود دوسرے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ساتھ ہم آہنگی بھی لازمی ہوگی۔ اس بنیادی ڈھانچے کے بغیر بڑے پیمانے پر فضائی ٹیکسی سروس کا آغاز مشکل ہوگا۔ پاکستان کے لیے اس ٹیکنالوجی کا ایک اہم پہلو تعلیم، تحقیق اور صنعتی ترقی بھی ہے۔ جامعات، انجینئرنگ ادارے اور مقامی ٹیکنالوجی کمپنیاں بیٹریوں، برقی موٹروں، ہلکے وزن کے مواد، سینسرز اور خودکار نظاموں کے شعبوں میں تحقیق کر سکتی ہیں۔ اس سے نوجوانوں کے لیے جدید ہنر اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، اس مقصد کے لیے تحقیق میں سرمایہ کاری، تربیت یافتہ افرادی قوت، مضبوط ضابطہ جاتی نظام اور مقامی صنعت کی ترقی ضروری ہوگی۔ پاکستان کو محض جدید مصنوعات کی نمائش کے بجائے ان کی تیاری اور تکنیکی صلاحیت حاصل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ایک بنیادی سوال عام شہری کے لیے اس سفر کے کرائے کا بھی ہے، اگر اڑنے والی ٹیکسیوں کی لاگت بہت زیادہ ہوئی تو ابتدا میں ان سے صرف محدود طبقہ فایدہ اٹھا سکے گا۔ ایسی صورت میں یہ سہولت عام شہریوں کی ٹرانسپورٹ کا متبادل بننے کے بجائے کاروباری، سیاحتی یا ہنگامی خدمات تک محدود رہ سکتی ہے۔ مستقبل میں اخراجات کم ہونے کے باوجود ضروری نہیں کہ ہر راستے پر فضائی ٹیکسی، بس، میٹرو یا عام ٹیکسی سے بہتر انتخاب ثابت ہو۔ اصل کامیابی اسی وقت ہوگی جب یہ سروس محفوظ ہونے کیساتھ مناسب قیمت پر دستیاب ہو اور عوام کی حقیقی ضروریات پوری کرے۔ اسے موجودہ ذرائع نقل و حمل کا مکمل متبادل سمجھنے کے بجائے ایک اضافی سہولت کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا۔حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس مستقبل کی تیاری کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ طیاروں کی منظوری، آپریٹرز کے لائسنس، عملے کی اہلیت، فضائی ٹریفک کی نگرانی، انشورنس، حادثات کی تحقیقات، مسافروں کے حقوق اور ہنگامی ردِعمل سے متعلق واضح قوانین ضروری ہوں گے۔ کسی کمپنی کے تشہیری دعوے یا آزمائشی پرواز کو حتمی کامیابی تصور کرنے کے بجائے آزادانہ تکنیکی جانچ اور شفاف معلومات کو اہمیت دینی چاہیے، اگر پاکستان میں مستقبل میں آزمائشی منصوبے شروع کیے جائیں تو انھیں محدود دائرہ کار اور مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ آگے بڑھانا مناسب ہوگا۔ دنیا میں نقل و حمل کے نئے ذرائع متعارف ہو رہے ہیں اور اڑنے والی ٹیکسیاں بھی اسی تبدیلی کا ایک دلچسپ امکان ہیں۔ ان کی کامیابی محض زمین سے بلند ہوکر پرواز کرنے میں نہیں بلکہ سفر کو محفوظ، قابلِ اعتماد، ماحول کے لیے بہتر اور عوام کی دسترس میں لانے میں ہوگی۔ پاکستان کو نہ اس جدت سے بے خبر رہنا چاہیے اور نہ ہی اسے فوری انقلاب قرار دے کر غیر حقیقی توقعات قائم کرنی چاہئیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تحقیق، تربیت، بنیادی ڈھانچے اور قانونی ضابطوں کے ذریعے مستقبل کے لیے تیاری کی جائے۔ ممکن ہے آنیوالے برسوں میں آسمان پر سفر شہری زندگی کا نیا حصہ بن جائے، لیکن اس مستقبل کی اصل کامیابی بلندیوں کو چھونے میں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو زیادہ آسان، محفوظ اور باوقار بنانے میں ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل