Loading
میر جعفر اور میر صادق جیسے غداران قوم نے برصغیر کے مسلمانوں کو جتنا نقصان پہنچایا ہے، اتنا تو کسی غیرمسلم نے بھی نہیں پہنچایا۔ اس میں شک نہیں کہ کچھ غیرمسلموں کی نظر میں مغل حکومت کھٹک رہی تھی مگر انھوں نے اسے گرانے کی خود ہمت نہیں کی، البتہ مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے مذموم مقاصد ضرور حاصل کیے۔
تاہم یہ کہنا کہ ہندوستان کے عام لوگ مغل حکومت سے بیزار تھے جیساکہ آج کل ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کے لیے بی جے پی حکومت پروپیگنڈا کر رہی ہے، بالکل غلط اور مغل حکومت پر بہتان ہے۔
مسلم حکومتوں کا ہندوؤں سے برادرانہ رویہ قائم تھا، جس کا ثبوت 1857 کی جنگ آزادی ہے جس میں ہندوؤں نے مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ انگریزوں سے ٹکر لی تھی مگر غداروں نے اپنی سازشیں جاری رکھیں اور بالآخر مغل حکومت کا شیرازہ بکھر گیا۔
انگریزوں نے پہلے بنگال کو میر جعفر کے ذریعے ہتھیایا پھر جنوب میں ٹیپو سلطان کو میر صادق کی وجہ سے شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ تاہم ٹیپو سلطان اپنی سرزمین کا مردانہ وار دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے، اس لیے آج بھی وہ پورے برصغیر میں آزادی حاصل کرنے والوں کے لیے ایک مثال بنے ہوئے ہیں۔
برصغیر پر قبضے کے بعد انگریزوں نے غداران وطن کے ذریعے ہی نوے سال تک حکومت کی مگر 1947 میں جب برصغیر چھوڑ کر وطن واپس جانے لگے تو اپنے پیچھے کئی مسئلے چھوڑ گئے جن میں ایک ریاست جموں کشمیر کا مسئلہ بھی تھا۔
جموں کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے مگر بدقسمتی سے انگریزوں نے اسے ایک ڈوگرا راجہ کے حوالے کر دیا تھا۔ اصولاً تو انھیں اسے تقسیم ہند کے فارمولے کے تحت پاکستان کے حوالے کرنا چاہیے تھا مگر اسے وہاں کے راجہ کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا اور انتہاپسند لیڈر ولبھ بھائی پٹیل نے موقع غنیمت جان کر اسے بھارت میں ضم کرنے کا کام شروع کر دیا۔
وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن چونکہ بھارت کا وفادار بن چکا تھا، چنانچہ وہ جموں کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے لیے سرگرم ہو گیا، ساتھ ہی شیخ عبداللہ بھی بھارت کی وکالت کرنے لگا۔ شیخ عبداللہ وہ شخص تھا جس کی حیثیت ہمیشہ ہی متنازعہ رہی ہے۔
اس کی کانگریسی لیڈروں سے کافی قربت رہی ہے۔ تقسیم ہند کے بعد اسی شخص نے نہرو سے ساز باز کرکے مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی تحریک آزادی کو کچلا اور انھیں پاکستان میں شامل ہونے سے روکا۔
اسے اپنی خدمات کے صلے میں مقبوضہ کشمیر کا وزیر اعلیٰ رہنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ اس کے مرنے کے بعد اس کا بیٹا فاروق عبداللہ اپنے باپ کے نقش قدم پر چلتا رہا ہے۔ وہ اپنی وفاداری کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کا وزیر اعلیٰ رہ چکا ہے اور اب اس کا بیٹا عمر عبداللہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بنا ہوا ہے۔
بھارتی آئین کی شقوں 370 اور 35A کے تحت یہ ریاست مودی کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ایک خودمختار ریاست تھی مگر اس نے اپنے انتہا پسندانہ ہندوتوا فلسفے کے تحت اسے بھارت کا حصہ بنا دیا ہے اور بھارتی آئین کی شقوں 370 اور 35A کو منسوخ کر دیا جو سراسر کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے تاہم اس کے اس اقدام کے باوجود اب بھی جموں کشمیر ایک متنازعہ خطہ ہے جس کا مقدمہ اب بھی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔
پھر کشمیری عوام اب بھی اپنی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ وہ بھارتی غلامی سے نکل کر پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ اس طرح مودی کی اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو چھپانے کی کوششیں لاحاصل ہی رہی ہیں، پھر متنازعہ ریاست پر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں نے بھی اس ریاست کی متنازعہ حیثیت کو پوری دنیا پر آشکار کیا ہے۔
کانگریس کے دور تک اس ریاست کی متنازعہ حیثیت پر پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے ہیں مگر جب سے مودی نے حکومت سنبھالی ہے، نہ صرف مذاکرات کا سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے بلکہ پاکستان سے آمد ورفت اور تجارت تک کو ختم کر دیا گیا ہے۔ اب پورا مقبوضہ کشمیر فوجی چھاؤنی بنا ہوا ہے۔
اس وقت ریاست میں انتخابات کے نتیجے میں بی جے پی ہار چکی ہے اور نیشنل کانفرنس کی جیت کے بعد فاروق عبداللہ کا بیٹا عمر عبداللہ ریاست کا وزیر اعلیٰ بن چکا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ اب 80 برس پرانا ہو چکا ہے، یہ بھارتی حکومتوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ابھی بھی حل طلب ہے۔
حالانکہ اس مسئلے کی وجہ سے بھارت کو اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ فوجی ساز وسامان کی خرید پر خرچ کرنا پڑ رہا ہے ۔اس کے عوام کی غربت میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے مگر وہ اپنے عوام کی پرواہ کرنے کی بجائے پاکستان اور چین کا مقابلہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہے ۔
دوسری طرف اس کی تیاری کا یہ حال ہے کہ معرکہ سندور کے تحت اس نے پاکستان پر جو حملہ کیا تھا اسے منہ کی کھانا پڑی ہے مگر وہ شکست کے بعد بھی پاکستان دشمنی سے باز نہیں آیا ہے اور پاکستان پر حملہ کرنے کی پھر تیاری میں مصروف ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کاش کہ بھارتی جنونی رہنما کشمیریوں کی آزادی کا احترام کریں تو آگے جنگوں کے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اپنے ابتدائی دنوں میں ہی حل ہو سکتا تھا مگر کیوں نہ ہو سکا، اس پر مختلف تجزیہ کاروں نے اپنی آراء کا اظہار کیا ہے۔
جموں کشمیر کے اس وقت کے ڈوگرا راجہ ہری سنگھ کے کشمیر کا الحاق بھارت کے ساتھ کرنے سے انکار کے بعد بھارت نے اپنی فوجوں کو زبردستی جموں کشمیر میں پیش قدمی کا حکم دے دیا تھا۔
اس صورتحال کے باوجود بھی قبائلی جتھوں اور محب وطن جاں بازوں کو جموں کشمیر میں کارروائی کا موقع مل گیا اور انھوں نے اپنے بل پر جموں کشمیر کے مغربی حصے اور گلگت بلتستان کو مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بنا دیا تھا۔ جو آج بھی کشمیریوں کی آزاد پناہ گاہ ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل