Loading
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے ڈیجیٹل خواندگی کو ہر مہم، نصاب اور ادارے کا حصہ بنانے اور نیشنل سائبر سکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلط معلومات کا پھیلاؤ اور اس سے پیدا ہونے والے خطرات موجودہ دور کا بڑا چیلنج ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے زیر اہتمام سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایک کلک شہریوں کی نجی معلومات تک رسائی کا ذریعہ بن سکتا ہے، اس لیے سائبر سکیورٹی سے متعلق مسلسل آگاہی اور شہریوں کو مسائل کے حل فراہم کرنا ضروری ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ سوشل میڈیا کی آمد اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے باعث ملک کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے، ان خطرات سے نمٹنے کے لیے مربوط، جامع اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ صرف ایک ہفتے کی آگاہی مہم کافی نہیں بلکہ مسلسل کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی شامل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک باقاعدہ نصاب متعارف کرایا جائے تاکہ بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات اور ان سے بچاؤ کے طریقوں سے آگاہ کیا جا سکے۔ ٹیکنالوجی میں تبدیلیوں کے ساتھ نصاب کو بھی مسلسل اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیپ فیک اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی شناخت ایک اہم چیلنج ہے۔ صارفین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ جو مواد دیکھ رہے ہیں وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیا گیا ہے، اس لیے اے آئی مواد کی لیبلنگ لازمی بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دور مخصوص پیغام رسانی کا ہے، ہر طبقے تک مؤثر انداز میں رسائی کے لیے مائیکرو انفلوئنسرز کی خدمات سے استفادہ کرنا ہوگا تاکہ درست پیغام درست فارمیٹ میں متعلقہ سامعین تک پہنچ سکے۔ پاکستان کے ہر ادارے میں ڈیجیٹل لٹریسی سیل قائم کرنے کے ساتھ افسران کی تربیت بھی ضروری ہے۔
عطا اللہ تارڑ نے نیشنل سائبر سکیورٹی اینڈ سوشل میڈیا آگاہی کونسل کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اس میں وفاقی وزارتوں، متعلقہ ڈویژنز، صوبائی حکومتوں اور دیگر اداروں کو نمائندگی دی جا سکتی ہے۔ مجوزہ کونسل کے ذریعے سال بھر ملک بھر میں ڈیجیٹل آگاہی مہم چلائی جا سکے گی۔ حکومت پاکستان اور وزارت اطلاعات اس سلسلے میں مکمل تعاون فراہم کریں گی۔انہوں نے بتایا کہ وزارت اطلاعات و نشریات میں پاکستان کا پہلا ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، جسے اب علاقائی سطح تک وسعت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یو این ڈی پی کے تعاون اور تربیتی پروگراموں کو بھی سراہا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی نے اپنا کام شروع کر دیا ہے جبکہ پی ٹی اے، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور وزارت اطلاعات کے درمیان مشاورت جاری ہے۔ سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بھی مجوزہ کونسل کے ذریعے مربوط کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ کونسل کے قیام کے لیے ایک یا دو ہفتوں میں اعلان کیا جا سکتا ہے تاکہ اجتماعی کوششوں کے ذریعے آنے والی نسلوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔تقریب میں چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان، یو این ڈی پی کے ریذیڈنٹ نمائندے ڈاکٹر سیموئل رزک، بابر یعقوب فتح محمد، چیئرپرسن پیمرا عنبرین جان، ٹیلی کام کمپنیوں کے نمائندے اور دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل