Loading
ایک طرف ہم شور مچاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں کوڑے کرکٹ کے اور کچرے کے ڈھیر آسمان سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں، ندیاں، نالے، دریا اور سمندر کچرے اور پلاسٹک کے لفافوں سے بھر گئے ہیں۔ کوئی صحرا بچا ہے، نہ پہاڑ اور نہ میدان کہ جہاں پر گندگی کے ڈھیرنہ ہوں اور یہ مناظر ہمارے لیے باعث شرمندگی ہیں۔
گلی محلوں اور سڑکوں پر کوڑا کرکٹ پھینکنا تو یوں بھی ہمارا فرض عین ہے۔ سب سے بری بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ کوڑا کرکٹ برا تو لگتا ہے مگر ہم خود بھی اسے پھیلانے میں برابر کے شریک ہیں، اس کا ہمیں علم نہیں ہوتا۔ ہمیں تو یوں بھی عادت ہے کہ ہم اپنے قصور مانتے بھی نہیں۔
بچہ جب اس عمر میں ہوتا ہے کہ اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا کوئی کاغذ یا ریپر چلتے چلتے گھر کے صحن میں پھینک دے تو وہ اولین وقت ہوتا ہے کہ اسی کے ہاتھ سے وہ کاغذ اٹھوایا جائے اور اسے بتایا جائے کہ اسے کوڑادان میں پھینکنا ہے۔
گاڑی میں اگر بچے کچھ کھا رہے ہوں اور ان کی پیکنگ یا لفافہ گاڑی کی کھڑکی کا شیشہ کھول کر باہر پھینکنا چاہیں تو انھیں فوراً منع کریں۔ انھیں بتائیں کہ یہ کچرا گاڑی میں ہی رہنے دیں، گھر جا کر گھر کے کوڑادان میں پھینکا جا سکتا ہے یا راستے میں کہیں بھی کوئی کچرادان نظر آئے تو گاڑی روک کر اس میں پھینکوا دیں۔
انھیں کہیں کہ ان کے اس عمل سے ہمارے ملک کی گلیاں اور سڑکیں گندی نظر آتی ہیں اور دیکھنے والے کہتے ہیں کہ کتنا غیرمہذب ملک ہے۔ آپ کے تن من کی صفائی، سب بے کار ہے، اگر آپ کے اندر ملک کو صاف رکھنے کی خواہش اور شعور نہیں ہے۔
اگر اپنے بچے کو ایک بار… بلکہ پہلی بار نہ ٹوکا جائے تو اس کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے کہ اس نے کچرا پھیلانا ہے اور اٹھانا کسی اور نے ہے۔ آپ کے گھر کا کچرا بسا اوقات کچرا ہوتا بھی نہیں، کسی اور کے گھر میں اس سے کئی کام بن جاتے ہیں۔
آپ اخبارات اور کتابیں کچرا سمجھ کر پھینک دیتے ہیں مگر کسی غریب کے گھر میں ان کتابوں سے مفت میں ان کے بچے پڑھ سکتے ہیں اور اخبارات اور رردی کاغذوں سے لوگ لفافے بنا کر بیچتے ہیں جو کہ ان کا ذریعہء روزگار ہوتے ہیں۔
آپ کے پرانے کپڑے، جوتے، بستے، بیگ، برتن یا گھر کا کوئی بھی سامان… سوئی سے لے کر مشین تک، آپ کے لیے بیکار ہو سکتا ہے مگر کسی کے لیے ضروری۔ بچوں سے کہیں کہ چیزیں، سامان یاکپڑے جوتے پھینکنے کی بجائے کسی غریب کو دے دیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے نام پر ایسی بے کار چیزیں غریبوں کو دیں؟ چلیں اللہ کے نام پر نہ سہی مگر اس لیے دے دیںکہ وہ آپ کی ضرورت سے زائدہے۔
کچھ عرصہ پہلے ہمارے جاننے والوں میں ایک باربی کیو پارٹی تھی جس میں ہلکی کوالٹی کے پلاسٹک کے برتن استعمال کیے گئے تھے، میں سمجھی کہ لان یا برآمدے میں سارا انتظام ہونے کی وجہ سے اس امکان کے تحت کہ قیمتی برتن ٹوٹ نہ جائیں، انھوں نے سستے برتن گھر میں اسی مقصد سے رکھے ہیں مگر جب سامان سمیٹا جا رہا تھا تو میں نے ان کے ملازموں کو دیکھا کہ سارے برتن وہ کچرے سمیت کوڑے والے لفافوں میں ڈال کر بڑے بڑے کوڑادان میں پھینک رہے تھے۔ میں تو ایسے حالات میں جانے کس صدمے میں مبتلا ہو جاتی ہوں۔
ہوٹلوں کے کچرا دانوں میں پھینکے جانے والے اس دن کے بچے ہوئے کھانے، منڈیوں میں کوڑے کی طرح ڈھیر ہوئے پھل اور سبزیاں جو بک نہ سکیں۔ پھلو ں اور سبزیوں کی دکانوں، ٹھیلوں اور ریڑھیوں پر سے گلے سڑے اور ہلکے معیار کے پھل جو دن بھر وہیں پڑے رہتے ہیں اور شام کو کوڑے کے ڈھیروں پر چلے جاتے ہیں مگر بدقسمتی سے ان میں سے کچھ بھی کسی ضرورت مند کے پیٹ میں نہیں جاتا۔
مجھے اس کے ساتھ ہی وہ بچے یاد آجاتے ہیں جو کوڑے کرکٹ میں سے غلاظت میں سنے ہوئے کھانے کے ٹکڑے اور پھل سبزیاں چن چن کر کھاتے ہیں۔ مجھے ان قحط زدہ ملکوں کے بچوں کی وڈیوز نظر آنے لگتی ہیں جو جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزارنے اور کچھ نہ کھانے کو ملنے پر زندہ کیڑے مکوڑے چن چن کر کھاتے ہیں۔
مجھے ان بچوں کی وہ ناقابل فراموش تصویریں نظر آنے لگتی ہیں جن کے چہروں پر نہ رونق ہے، نہ چمک، نہ ہی زندگی جیسی رمق۔ ان کے چہروں پر گڑھوں میں دھنسی ہوئی آنکھیں ہیں اور پسلیوں کے عقب میں نظر نہ آنے والے پیٹ۔
ان کے ابدان کی ایک ایک ہڈی اور پسلی کو دیکھا اور گنا جا سکتا ہے، وہ بھی انسان ہی کہلاتے ہیں مگر ہماری انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہیں ان کے چہرے۔ ہم جتنی رقم میں گھر سے باہر ایک وقت کا کھانا کھا لیتے ہیں، اتنی رقم انھیں ایک مہینے کے کھانے کے لیے نصیب نہیں ہوتی۔ ہمارا وہ ایک وقت کے کھانے کا بل ایک غریب آدمی کی مہینے بھر کی کمائی کے برابر ہوتا ہے۔
ہمارے گھروں کی بے کار چیزیں ان کے لیے پھر بھی کارآمد ہوتی ہیں۔ ان کے گھروں میں ہوتا ہی کیا ہے، زمین ہی ان کا فرش، وہی ان کا بستر اور وہی ان کا ڈائننگ ٹیبل۔ انھیں جو کچھ بھی مل جائے گا وہ وہی ہو گا جو کہ ان کے پاس نہیں ہوتا۔
ہمارے لیے لباس، جوتے، زیورات، میک اپ، بیگ، گھڑیاں اور زیورات ہمارے سٹیٹس کی علامت ہوتے ہیں مگر ان کے پاس لفظ سٹیٹس کا کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ ان کا تو جو تن ڈھانکے وہی لباس ہے، جو پیر میں پورا آجائے وہی جوتا ہے، جو بھوک مٹا دے وہی کھاجا، جو رات کو سونے کی جگہ مل جائے وہی پناہ گاہ اور جو دن بھر محنت کر کے، اپنی مشقت کا عوضانہ مل جائے وہی ان کی کل جائیداد۔
وہ اتنی بھی نہیں ہوتی کہ ان کے ہا ں مہینے کا ایک ہفتہ بھی گزر جائے اور پھر اگلے مہینے کی پہلی تاریخ کا انتظار۔ جہاں ہر روز مزدوری کر کے گھر پر اتنی رقم آتی ہے کہ اس دن کا چولہا گرم ہوجائے، ان گھروں میں تو بہت سے دن چولہا بھی گرم نہیں ہوتا، پیٹ بھرنے کے دنوں سے زیادہ فاقوں کا شمار ہوتا ہے۔ ان گھروں میں بیماری آنے کا مطلب موت کی چاپیں ہی ہوتا ہے کہ علاج کی سکت کسے ہوتی ہے۔
آپ کے پاس جو کچھ بھی ایسا ہے جو آپ کو علم ہے کہ آپ نے کبھی دوبارہ استعمال نہیں کرنا، چاہے وہ چھوٹی سی چیز بھی کیوں نہ ہو، اسے کوڑے میں پھینک کر ’ ڈسپوز آف‘ نہ کریں، وہ کسی غریب کے گھر میں ضرور کام آسکتی ہے۔
اس کا نیا ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی آپ سے کوئی مدد مانگے تو وہ نئی چیز ہی مانگتا ہے۔ جن گھروں میں برتنوں کے نام پر ایک گلاس یا پلیٹ بھی نہ ہو، بچوں کو کھانا اخبار کے کاغذوں یا پتوں پر رکھ کر دیا جاتا ہے، وہاں آپ کے کوڑے میں پھینکے جانے والے ڈسپوزایبل پھر بھی بہتر ہیں۔
دور حاضر جتنا بھی تیزرفتار سہی کہ لوگوں کے پاس نئی چیز خریدنے کو بھی وقت کم ہوتا ہے، کجا یہ کہ پرانی یا خراب ہو جانے والی چیز کو مرمت کروا لیا جائے تو آپ اپنی خراب ہو جانے والی چیز کو پھینکنے کی بجائے، اسے مرمت کروا کر یا بغیر مرمت کے ہی کسی غریب کو دے دیں۔
وہ مرمت کروا کر استعمال کرلے گا او ر دعائیں پھر بھی دے گا۔ آپ لاکھوں کروڑوں میں بھی کھیلتے ہوں تو یقین کریں کہ اتنی سی دعائیںبھی آپ کسی قیمت پر نہیں خرید سکتے جتنی آپ اپنی مفت میں پھینکے جانے والی چیز کسی غریب کو دے کر کما سکتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل