Sunday, November 01, 2026
 

جناح اسپتال لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ؛ جنریٹر کیلیے 3 ماہ میں 52 لاکھ کا ڈیزل؟

 



سندھ کے سب سے بڑے سرکاری طبی ادارے جناح اسپتال کراچی میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کی سہولت موجود ہونے کے باوجود جنریٹرز کے لیے لاکھوں روپے کے ڈیزل کی کھپت کا انکشاف ہوا ہے۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 3 ماہ میں اس مد میں 52 لاکھ روپے سے زائد خرچ کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں دستاویزات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ جولائی سے ستمبر کے دوران اسپتال کے جنریٹرز کے لیے ڈیزل کی خریداری اور استعمال پر مجموعی طور پر 52 لاکھ 56 ہزار 248 روپے خرچ ہوئے۔ یہ اخراجات ایسے اسپتال میں سامنے آئے ہیں جسے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سے پیوستہ شب بجلی کی طویل بندش کے دوران اسپتال کے ہنگامی جنریٹرز بھی کام نہیں کرسکے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں آئی سی یو میں زیر علاج 2 مریضوں کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ درجنوں دیگر مریضوں کی حالت بگڑنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ تاہم اسپتال انتظامیہ نے دونوں مریضوں کی اموات کا بجلی کی بندش سے تعلق مسترد کرتے ہوئے وضاحت کی کہ جاں بحق ہونے والے مریض پہلے ہی شدید علیل اور تشویشناک حالت میں تھے، جبکہ ان کی موت بنیادی طبی پیچیدگیوں کے باعث ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جناح اسپتال کو لوڈشیڈنگ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ گزشتہ شب بجلی کی فراہمی میں تعطل کا واقعہ اسپتال کے اندرونی نظام میں خرابی کے باعث پیش آیا، جس کا کے الیکٹرک کے انفرااسٹرکچر سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ دریں اثنا اسپتال انتظامیہ نے بجلی کی بندش کے دوران ہنگامی جنریٹرز فعال نہ ہونے کی وجہ سافٹ ویئر میں تکنیکی خرابی کو قرار دیا ہے۔ جناح اسپتال کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر یحییٰ تنیو کے مطابق ادارے میں اکثر فنی خرابیاں اور بجلی کے فالٹ ہوتے رہتے ہیں، جن کے دوران متبادل بجلی کے لیے جنریٹرز چلائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر یحییٰ تنیو کا کہنا تھا کہ جنریٹرز کو تکنیکی معائنے اور چیکنگ کے لیے بھی وقتاً فوقتاً چلایا جاتا ہے اور کسی بھی بجلی کے فالٹ کی صورت میں اسپتال کو متبادل بجلی فراہم کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ڈپٹی ڈائریکٹر نے بتایا کہ گزشتہ 3 ماہ کے دوران ڈیزل پر خرچ ہونے والی رقم اور استعمال کیے گئے ایندھن کی مجموعی مقدار کے اعدادوشمار فی الحال ان کے پاس موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے جنریٹرز سے متعلق سوالات کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تکنیکی نوعیت کے معاملات ہیں اور ان امور پر سوالات کرنا مناسب نہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل