Loading
موچکو پولیس نے ایدھی قبرستان روڈ پر کھڑی کار سے ملنے والے شخص کی لاش کے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا۔
واقعہ کا مقدمہ قتل کی دفعہ کے تحت جاں بحق شخص کے بھائی کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 589 سال 2026 بتاریخ 3 نومبر کو درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں مدعی طیب ظفر ولد ظفر اللہ رہائشی نارتھ ناظم آبادنے بتایا کہ وہ نارتھ ناظم آباد میں فیملی کے ہمراہ رہائش پذیرہیں اور پرائیویٹ ملازمت کرتے ہیں۔ ہم تین بہین بھائی ہیں والد حیات ہیں اور والدہ فوت ہو چکی ہے ۔سعد ظفر میرے بڑے بھائی ہیں جو کہ شادی شدہ ہیں۔
ان کے دو بچے ہیں۔ 2 نومبر کو میں گھر پر تھا کہ فون پر اطلاع ملی کہ آپکے بڑے بھائی سعد ظفر کو گولی لگی ہے جو کہ فوت ہو چکے ہیں جنکی نعش سول اسپتال کراچی لیکر جارہے ہیں۔
اس اطلاع پر میں اپنے رشتے داروں و دوستوں کے مردہ خانے سول اسپتال گیا تو دیکھا کہ میرے بڑے بھائی40/ 39 سالہ سعد ظفر ولد ظفر اللہ کی نعش موجود تھی۔میں نے معلومات کیں تو پتہ چلا ہے کہ مورخہ 2 نومبر کو رات قریب پانے نو بجے بمقام مین اسپار کو روڈ نزد ایدھی قبرستان و طلائوس بابا قبرستان موچکو کراچی پر میرے بھائی سعد ظفر کو کار نمبری BUQ507 پر اپنے آفس ماڑی پور جاتے ہوئے نا معلوم شخص یا اشخاص نے کسی نا معلوم رنجش یادشمنی کی بنا پر اسلحہ آتشیں سے گولی مار کر قتل کیا ہے۔
میرا دعوی نامعلوم شخص یا اشخاص پر ہے۔پولیس نے قانونی کارروائی اور مدعی کے بیان کی روشنی میں مقدمہ زیر دفعہ 302/34 ت پ کے تحت نامعلوم ملزم یا ملزمان کے خلاف درج کرلیا ہے۔
واقعے کی مزید تفتیش انچارج سی آئی سی کیماڑی ڈویژن کراچی کے سپرد کر دی گئی ہے۔پولیس نے مختلف پہلوں نے تفتیش شروع کردی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل