Tuesday, November 03, 2026
 

امریکی الیکشن؛ ٹرمپ کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں؛ 25 لاکھ مسلمان ووٹرز کس کا ساتھ دیں گے؟

 



امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں مسلمان ووٹرز کی اہمیت بڑھ گئی ہے، جن کے ووٹ کئی اہم ریاستوں میں کانگریس کی نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ امریکی مسلمان شہری حقوق کی تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (کیر) کے مطابق امریکا میں 80 لاکھ مسلمان آباد ہیں جن میں 25 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز 12 اہم ریاستوں میں موجود ہیں۔ تنظیم کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنزنے انتخابات سے قبل ایک سروے بھی کرایا تھا جس میں 81 فیصد مسلمان ووٹرز نے انتخابات میں لازمی ووٹ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں 89 فیصد مسلم ووٹرز کے لیے امیدوار کا غزہ سے متعلق مؤقف انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ 63 فیصد ووٹرز نے مہنگائی اور اخراجات میں اضافے کو اپنا اہم مسئلہ قرار دیا۔ مشی گن، ٹیکساس، جارجیا، پنسلوانیا اور دیگر ریاستوں میں مسلمان ووٹرز کی موجودگی انتخابی مقابلوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ مشی گن میں سینیٹ کے امیدوار عبدالسید کی انتخابی مہم بھی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ مسلم نیٹ ورک ٹی وی کے جائزے کے مطابق مختلف ریاستوں میں کم از کم 51 مسلمان امریکی امیدوار بھی کانگریس، ریاستی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ تاہم مسلمان ووٹرز کسی ایک جماعت یا امیدوار کے حامی نہیں۔ ان کی ترجیحات میں مذہبی آزادی، صحت، مہنگائی، امیگریشن، شہری حقوق اور مشرق وسطیٰ سے متعلق امریکی پالیسی شامل ہیں۔ مسلمان ووٹرز کی اکثریت پہلے غزہ اور اب ایران میں صدر ٹرمپ کے جارحانہ اور متنازع کردار پر کافی خفا ہے وہ حکومت کی امیگریشن پالیسی کو بھی مسلم دشمنی پر مبنی سمجھتے ہیں اس لیے ان کا جھکاؤ ٹرمپ مخالف امیدوار کی جانب ہوگا۔  واضح رہے کہ امریکی مڈٹرم الیکشن کے نتائج سے نہ صرف کانگریس میں سیاسی طاقت کا توازن بلکہ آئندہ دو برس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر عمل درآمد کی گنجائش بھی طے ہوگی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل