Friday, November 06, 2026
 

وادی سندھ کی تاریخ پر 15ویں عالمی تھاپ کانفرنس کا آغاز

 



وادی سندھ کی قدیم تہذیب، تاریخی ورثے، دریائی تجارت، زبان، فنون اور سماجی روایات پر حقیق کے فروغ کے لیے 15ویں سالانہ عالمی تھاپ کانفرنس لاہور میں شروع ہوگئی۔ دو روزہ کانفرنس میں پاکستان بھر سے ممتاز ماہرین تعلیم، محققین اور نوجوان اسکالرز شرکت کر رہے ہیں۔ کانفرنس کا موضوع ’’وادی سندھ میں ثقافت اور زندگی: ہڑپہ تہذیب (7000 قبل مسیح) سے یورپی نوآبادیاتی دور (1600 عیسوی) تک‘‘ رکھا گیا ہے۔ کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے تھاپ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ساجدہ حیدر وندل نے شرکا اور مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ تھاپ ثقافتی ورثے کے تحفظ، مقامی روایات کے فروغ اور تاریخی و ثقافتی موضوعات پر تحقیق کے لیے اپنا کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ کانفرنس کے کنوینر پرویز وندل نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا خطہ ایک مربوط تہذیبی اور ثقافتی نظام کی نمائندگی کرتا ہے، جس کی تشکیل میں دریا، مقامی آبادیاں، معیشت اور روایات نے اہم کردار ادا کیا۔ این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کراچی کے پرو وائس چانسلر اور یونیسکو چیئر برائے پائیدار شہری خطے پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد نے کلیدی خطاب کیا۔ انہوں نے وادی سندھ کی تہذیبی اہمیت اور خطے کی تاریخی و سماجی ترقی کو سمجھنے کے لیے اس کے مطالعے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ تقریب کے مہمان خصوصی کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے اپنے خطاب میں تہذیبوں کے ارتقا اور انسانی زندگی پر مصنوعی ذہانت کے اثرات پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت روزمرہ زندگی کے ساتھ مختلف پیشہ ورانہ شعبوں کے طریقہ کار میں بھی نمایاں تبدیلیاں لا رہی ہے۔ کانفرنس کے پہلے روز تین علمی نشستوں میں دس تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ ان نشستوں کی صدارت ڈاکٹر فریحہ ظفر، عاصم امداد اور شاہد ندیم نے کی۔ مقالوں میں آثار قدیمہ، تاریخی خطوں، دریائی تجارت، سماجی ڈھانچے، قدیم رسم الخط اور فنون لطیفہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔ ڈاکٹر فریحہ ظفر کی زیر صدارت پہلی نشست میں سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ کے آثار، ہڑپہ، مصری اور میسوپوٹیمیا کے قدیم رسم الخط کا تقابلی مطالعہ اور لاہور کے تاریخی کتبوں کی اہمیت پر مقالے پیش کیے گئے۔ عاصم امداد کی زیر صدارت دوسری نشست میں وادی سندھ کی تہذیب سے یورپی نوآبادیاتی دور تک تاریخی تبدیلیوں، دریائے راوی کے ذریعے لاہور، ملتان اور سندھ کے درمیان قدیم تجارتی روابط، برطانوی نہری نظام سے قبل سندل بار کی سماجی و ثقافتی زندگی اور وادی سندھ میں زبان کی سیاست پر تحقیقی مقالے پیش کیے گئے۔ شاہد ندیم کی زیر صدارت تیسری نشست میں لاہور کی قدیم تاریخ، ہڑپہ تہذیب سے ابتدائی اسلامی دور تک آثار قدیمہ کے شواہد، وادی سندھ کی شہری منصوبہ بندی، دستکاری اور تجارتی روابط جبکہ گندھارا آرٹ میں لباس اور زیورات کے ذریعے سماجی شناخت اور مذہبی وابستگی کے اظہار کا جائزہ لیا گیا۔ تینوں نشستوں کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے محققین سے سوالات کیے اور مختلف موضوعات پر اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں سے ماہرین تعلیم اور محققین لاہور پہنچے ہیں۔ تھاپ انتظامیہ کے مطابق کانفرنس کی کارروائی ادارے کے سرکاری سوشل میڈیا پیجز پر براہ راست نشر کی جا رہی ہے، جبکہ کانفرنس کا دوسرا روز 7 نومبر کو ہوگا، جس میں مزید تحقیقی مقالے پیش کیے جائیں گے اور وادی سندھ کے تاریخی و ثقافتی ورثے کے مختلف پہلوؤں پر علمی مباحث جاری رہیں گے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل