Sunday, May 03, 2026
 

حکومت کا رئیل اسٹیٹ کو مضبوط بنانے کا عزم، سرمایہ کاری کیلیے نئی اصلاحات کا عندیہ

 



حکومت نے ملک میں رئیل اسٹیٹ کو  مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اس شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے نئی اصلاحات کا عندیہ دیا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ و ریونیو سینیٹر محمد اورنگزیب نے کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور مارکیٹ کے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسی سازی کے عمل میں مسلسل مشاورت کو یقینی بنایا جائے تاکہ اصلاحات زمینی حقائق سے ہم آہنگ رہیں اور معیشت کے وسیع تر اہداف کے مطابق ہوں۔ وزارت خزانہ کے مطابق انہوں نے یہ بات رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آر ای آئی ٹیز) کے فروغ اور سرمایہ منڈی کی ترقی کے لیے قائم فوکس گروپ کے ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں معروف کاروباری شخصیات عارف حبیب، ندیم ریاض اور علی جمیل سمیت دیگر نمائندگان نے شرکت کی، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے اہم نمائندے بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو منظم، شفاف اور سرمایہ کاری کے لیے زیادہ پرکشش بنانے کے لیے مربوط اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر خزانہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے مشاورت کے عمل کو جاری رکھنے کی اہمیت اجاگر کی۔ اجلاس کے دوران آر ای آئی ٹیز کے فروغ سے متعلق ٹیکس نظام میں بہتری، طریقہ کار کو آسان بنانے اور سرمایہ کاروں خصوصاً چھوٹے سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے جیسے امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ شرکا نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستان میں آر ای آئی ٹی مارکیٹ نے ابتدائی پیش رفت ضرور کی ہے تاہم اس میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے جسے مؤثر پالیسی اقدامات اور بہتر رابطہ کاری کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں قواعد و ضوابط میں وضاحت، انتظامی رکاوٹوں کے خاتمے اور مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو کلیدی اہمیت دی گئی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آر ای آئی ٹیز رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کو معیشت کے پیداواری شعبوں کی جانب منتقل کرنے کا ایک شفاف اور منظم ذریعہ فراہم کرتے ہیں، جو نہ صرف دستاویزی نظام کو فروغ دیتے ہیں بلکہ تعمیرات اور ترقیاتی شعبوں کی باضابطہ معیشت میں شمولیت کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ اجلاس میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے، آگاہی مہمات اور ثانوی مارکیٹ کے مؤثر نظام پر بھی زور دیا گیا تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو پائیدار بنایا جا سکے۔ علاوہ ازیں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے آر ای آئی ٹی فریم ورک کو بین الاقوامی بہترین روایات سے ہم آہنگ کیا جائے تاہم اسے سادہ، واضح اور قابلِ عمل رکھا جائے۔ وزیر خزانہ نے متعلقہ اداروں بشمول سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، آر ای آئی ٹی جاری کنندگان، ٹیکس پالیسی آفس اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکسیشن، ریگولیٹری معاملات اور مارکیٹ کی ترقی سے متعلق شعبوں میں تفصیلی جائزہ لے کر قابلِ عمل تجاویز پیش کریں۔ اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حکومت ایک شفاف، مستحکم اور سرمایہ کار دوست ماحول فراہم کرے گی جو سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل