Loading
لاہور: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ جس پاکستان پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام لگایا جاتا تھا اُسے آج دنیا میں ارض امن قرار دیا جا رہا ہے۔
جامعہ منظور اسلامیہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہم معرکہ حق کا ایک سال مکمل ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، ملک کے مدارس اور مساجد کے اندر معرکہ حق کی کامیابی کو منایا جا رہا ہے، پاکستان کو جو کامیابی ملی وہ اللہ کے فضل و کرم اور پاک فوج کی وجہ سے ملی۔ دشمن سمجھتا تھا کہ جارحیت سے پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لے آئے گا اور مقبوضہ کشمیر کو غزہ بنا دے گا۔ بھارت نے رات کو حملہ کیا تو پاکستان نے دن کے اجالے میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ داڑھی والے کو وردی والوں سے لڑوانے کی کوشش کی گئی، خود کش حملہ آوروں کو پگڑیاں اور ٹوپی پہنا کر دہشت گردی کروائی گئی۔ ملک میں آٹھ ہزار سے زائد علماء دہشت گردی کا نشانہ بنے، ہم آج بھی اپنی ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سپہ سالار حافظ عاصم منیر کہیں ہم صف اوّل میں کھڑے ہوں گے، ختم نبوت اور وطن عزیز کی سلامتی کےلئے تمام مکاتب فکر کے قائدین اور قوم ایک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 57 اسلامی ممالک میں سے کسی فوج کا سپہ سالار حافظ قرآن نہیں، صرف سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور ہمارے سپہ سالار حافظ قرآن ہیں۔ ہمیں پاک فوج پر ناز ہے، ہماری فوج ایمان تقویٰ اور جہاد والی فوج ہے، مسجد کا خطیب و موذن وطن عزیز کےلیے فوج کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاک فوج و سپہ سالار حافظ عاصم منیر صاحب کو سلام پیش کرتا ہوں کیونکہ وہ پاکستان کی جنگ کا امیر ہے۔ پاکستانی شاہینوں نے بینان المرصوص میں ایسی تاریخ رقم کی جو قیامت تک یاد رکھی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اللہ نے پاکستان کو سعودی عرب کا محافظ بنا دیا، ایران پر جنگ مسلط کی گئی تاکہ سنی شیعہ جنگ شروع ہوجائے، پاک سعودی عرب قیادت نے سر جوڑ کر مسلم امہ کو وحدت دی، ہمارا کام لڑائی جھگڑے اور ڈنڈے مارنا نہیں ہے بلکہ محبت و اخوت کا درس دینا ہے۔
علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ میرا کوئی بچہ باہر نہیں پڑھتا اگر باہر پڑھے بھی تو اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ کیا دنیاوی تعلیم مولوی کے بچے کیلئے ممنوع ہے؟، میں نے اپنے بچوں کو اچھی دینی تعلیم دی ہے، میرے بیٹے کی یونیورسٹی لندن یونیوسٹی سے منسلک رہی ہے، بیٹے نے اسکالر شپ پر پاکستان میں تعلیم حاصل کی۔ میرا بچہ لندن سے ڈگری لینے کے بعد جامعہ مدینہ یونیورسٹی میں جائے گا۔
علامہ طاہر اشرفی نے لندن میں اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے کہا کہ لندن میں میری بیوی اور میری بیٹی بھی ساتھ تھے، تحریک انصاف کی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ باقی لوگوں نے یہ کام شروع کردیا تو بات گھروں تک پہنچنا شروع ہوجائے گی۔ صف اول کی قیادت نے مجھ سے فون کرکے افسوس کیا مگر کچھ ڈالر کمانے والے یوٹیومروں نے جھوٹ بولا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی فوج کے کندھوں پر بیٹھ کر آجائے تو ٹھیک، جنرل باجوہ کو باپ کہیں تو ٹھیک ہے، میں نے کسی آرمی چیف کو باپ نہیں کہا، ہم ہمیشہ آرمی چیف کو اپنا سپہ سالار کہتے رہے ہیں۔ وقت آئے گا تو اپنے بچوں کو جہاد کےلیے تیار کروں گا، سپہ سالار ڈیوٹی لگائے تو میں حاضر ہوں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل