Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران پر دوبارہ حملوں کے امکانات موجود ہیں اور اب تک ایران نے اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں ایران کی جانب سے پیش کی گئی ممکنہ ڈیل کی تجاویز سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ جلد ان کی تفصیلات کا جائزہ لیں گے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116507414650995614
انہوں نے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ ایران کی پیشکش قابل قبول ہو سکے گی۔
امریکی صدر نے کہا کہ امریکا کی ایران سے مذاکرات کی صلاحیت لامحدود ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے بقول آبنائے ہرمز میں امریکی حکمت عملی ایک دوستانہ ناکابندی ہے جس کا مقصد خطے میں توازن برقرار رکھنا ہے۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت میں واضح ہم آہنگی نظر نہیں آتی اور مختلف بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا مرکز غیر واضح ہے۔
انہوں نے ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جرمنی سے 5 ہزار سے زائد فوجی اہلکار واپس بلانے جا رہا ہے، جسے دفاعی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرتے نہیں دیکھنا چاہتے اور اسی تناظر میں واشنگٹن کی پالیسی سخت دباؤ اور ممکنہ کارروائیوں کے گرد گھوم رہی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل