Sunday, May 03, 2026
 

سائبر سیکیورٹی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی، معاشی ترقی کے اہداف کے لیے اہم ہے، وزیرخزانہ

 



وفاقی وزیر خزانہ ومحصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نےکہا ہے کہ سائبرسیکیورٹی کو مضبوط بنانا نہ صرف مالیاتی انفراسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے اہداف کی حمایت کے لیے بھی اہم ہے۔ وزارت خزانہ سے جاری اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سائبرسیکیورٹی کی تیاریوں کو بڑھانے کے لیے ورچوئل اجلاس کی صدارت کی، جس میں وزیر خزانہ نے مالیاتی اداروں، ریگولیٹرز اور ٹیکنیکل ماہرین کی فعال شمولیت کی تعریف کی اور اہم مالیاتی انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ہم آہنگ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دی گئی جس میں تبدیل ہوتا ہوا سائبر خطرے کا منظرنامہ پیش کیا گیا، بشمول اے آئی سے چلنے والے سائبر ٹولز کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی جو کمزور پہلو کو شناخت کرنے اور متعدد مراحل والے حملوں کو ناقابل یقین رفتار سے انجام دینے کے قابل ہیں۔ بریفنگ میں ڈیجیٹل بینکنگ چینلز، ادائیگی کے مختلف نظام اور بنیادی مالیاتی انفرا اسٹرکچر میں ممکنہ خطرات کو اجاگر کیا گیا اور تیاری کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی تجربات کا بھی حوالہ دیا گیا، جاپان اور بھارت جیسے ممالک میں حالیہ سائبر خطرے کے رجحانات کا ذکر کیا گیا جہاں مالیاتی نظاموں کو ڈیجیٹل ادائیگی کے پلیٹ فارمز اور باہم منسلک نظاموں پر ہونے والے حملوں کا سامنا بڑھ رہا ہے۔ شرکا کو اے آئی سے چلنے والے ابھرتے ہوئے سائبر خطرات کے حوالے سے بین الاقوامی پالیسی ردعمل کی ترقی سے آگاہ کیا گیا، دنیا بھر میں وزارت خزانہ اور مرکزی بینکس ان پیش رفت کو اعلیٰ ترجیح والے نظاماتی خدشات کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے اور ورلڈ بنک کے اجلاس اور بڑے مالیاتی اداروں کے ساتھ دو طرفہ مشاورت سمیت ہم آہنگ اعلیٰ سطح کے پلیٹ فارمز کے ذریعے مصروف عمل ہیں۔ اجلاس میں دھمکیوں کی انٹیلی جنس شیئرنگ کو بہتر بنانے، پرانے نظاموں کی کمزوریوں کو حل کرنے، پتا لگانے اور ردعمل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے کے لیے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا استعمال کرنے پر زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے ایک منظم اور مرحلہ وار نکتہ نظر اپنانے کی اہمیت پر زور دیا جس میں فوری خطرے کی تخفیف، درمیانی مدت کی صلاحیت سازی اور طویل مدتی لچک پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ سائبرسیکیورٹی کو مضبوط بنانا نہ صرف مالیاتی انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کے لیے ضروری ہے بلکہ پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹل تبدیلی اور معاشی ترقی کے اہداف کی حمایت کے لیے بھی اہم ہے۔ وزیر خزانہ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن پر زور دیا کہ وہ موجودہ فریم ورکس کا جامع جائزہ لیں، کلیدی خامیوں کی نشان دہی کریں اور سائبر رسک مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تیاری کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا جائزہ لیں۔ انہوں نے ریگولیٹری اتھارٹیز، مالیاتی اداروں اور ٹیکنیکل ٹیموں کے درمیان قریبی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا تاکہ بینکنگ سیکٹر کی سائبرسیکیورٹی کی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لیے سوچے سمجھے اور قابل عمل سفارشات تیار کی جا سکیں۔ اعلامیے کے مطابق شرکا نے قابل عمل اقدامات تیار کرنے اور پاکستان کے مالیاتی نظام کو تبدیل ہوتے ہوئے سائبر خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کے بروقت نفاذ کو یقینی بنانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس نے سائبرسیکیورٹی، مالیاتی استحکام اور مالیاتی شعبے میں ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی ذمہ دارانہ استعمال کے حوالے سے عالمی بحث میں پاکستان کی فعال شمولیت کی عکاسی کی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل