Loading
کراچی کی سینیئر سول جج شرقی کی عدالت میں بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کی تعمیر کے دوران اوورسیز شہری کے حادثے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔
شہری نے حادثے میں ایک آنکھ ضائع ہونے پر پراجیکٹ ڈائریکٹر اور کانٹریکٹر کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کر دیا۔ درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق نے مؤقف اختیار کیا کہ مدعی سید وقاص 2025 میں حج کی ادائیگی کے لیے پاکستان آئے تھے۔
مئی 2025 کی رات ایئرپورٹ جاتے ہوئے یونیورسٹی روڈ پر ان کی گاڑی سڑک کے درمیان رکھے گئے بیریئر سے ٹکرا گئی، جہاں نہ ریفلیکٹر نصب تھے اور نہ ہی کوئی وارننگ بورڈ موجود تھا۔
وکیل کے مطابق حادثے کے نتیجے میں مدعی کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی جبکہ چہرے پر شدید فریکچر آئے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ریڈ لائن منصوبے کے دوران عوامی املاک کے تحفظ کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
لہٰذا سندھ حکومت، بی آر ٹی انتظامیہ اور کانٹریکٹر کو طبی اخراجات، بحالی، معذوری اور دیگر نقصانات کی مد میں 17 کروڑ 87 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل