Loading
پاکستان وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ نیا سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں کے لیے بے حد مفید ثابت ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق ’ایکسپریس‘ کو خصوصی انٹرویو میں مائیک ہیسن نے بتایا کہ نیا سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑیوں کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ تینوں فارمیٹس میں یکساں مہارت حاصل کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے ان پر توجہ دیں جہاں وہ کھیلنا چاہتے ہیں اوربہتر کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
وائٹ بال ہیڈ کوچ نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ ان فارمیٹس پر صحیح توجہ نہیں دے پاتے جس میں اتنے مؤثر نہیں ہوتے، میں پُرامید ہوں کہ یہ کنٹریکٹس پلیئرز کو درست سمت میں توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ پر کرکٹرز کو ابتدا میں کچھ ابہام تھا، جب سوالات اٹھائے اور ان کے جوابات مل گئے تو پھر انہیں فوائد نظر آنے لگے، مجھے لگتا ہے کہ جب یہ کنٹریکٹس عملی طور پر لاگو ہوں گے تو اصل اہمیت مزید واضح ہو جائے گی۔
کوچ نے کہا کہ لاہور میں وائٹ بال کیمپ اچھی طرح آگے بڑھ رہا ہے، ہمیں کئی ایسے کھلاڑیوں کو دیکھنے کا موقع ملا جن کے ساتھ ہم پہلے وقت نہیں گزار سکے تھے، اب ہم انہیں بہتر طور پر جان رہے ہیں اور صلاحیتوں کا اندازہ لگا رہے ہیں کہ کیا وہ مستقبل میں ٹیم کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابتدا میں ہماری توجہ انجری سے بچاؤ اور فٹنس پر تھی، گزشتہ ہفتے سے ہم نے پلیئرز کی مہارت پر کام شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیمپ میں کچھ نوجوان کھلاڑی خاص طور پر متاثر کن نظر آئے ہیں، پیسر عبدالسبحان انڈر 19 کرکٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر چکے ہیں، وہ لمبے قد کے حامل اور اچھی لائن اور لینتھ پر بولنگ کرتے ہیں، جیسے جیسے مزید مضبوط ہوں گے ان کی رفتار بھی بڑھے گی، وہ ایک باصلاحیت بولر ہیں، ہم ان کی ترقی کے منتظر ہیں۔
آخری آئی سی سی ایونٹ میں کارکردگی پہلے سے بہتر رہی
آئی سی سی ٹورنامنٹس میں غیر معیاری کارکردگی کے سوال پر مائیک ہیسن نے کہا کہ اگر ہم گزشتہ چار ایونٹس کو دیکھیں تو تین میں گروپ اسٹیج سے بھی آگے نہیں جا سکے تھے، البتہ آخری ایونٹ (ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 ) کا گروپ مرحلہ عبور کرنے میں کامیاب ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ بارش کی نذر ہو گیا، ہم نے سری لنکا کو شکست دی، انگلینڈ کے خلاف سنسنی خیز مقابلہ ہار گئے، ہم سیمی فائنل کے بہت قریب تھے لیکن کچھ اہم مواقع ضائع ہو گئے، بہرحال ہماری کارکردگی پہلے کے مقابلے میں بہت بہتر تھی۔
ون ڈے ورلڈکپ 2027 کی تیاری، اگست میں ٹورنامنٹ ہوگا
ون ڈے ورلڈکپ 2027 کی تیاریوں کے حوالے سے کوچ نے کہا کہ اگست میں ایک ڈومیسٹک ٹورنامنٹ شروع ہوگا جس میں ملک کے ٹاپ 50 وائٹ بال کھلاڑی حصہ لیں گے، سخت مقابلوں میں ہمیں وسیع پیمانے پر کھلاڑیوں کو دیکھنے اور اسکواڈ کا بہترین انتخاب کرنے کا موقع ملے گا، ہم ون ڈے سیریز کے ساتھ مزید ٹرائنگولر سیریز بھی ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں، زمبابوے میں کھیل کر ورلڈکپ جیسی کنڈیشنز کا تجربہ حاصل ہو سکے گا۔
انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کے دوران جنوبی افریقا، زمبابوے یا نمیبیا میں کھیلنا آسان نہیں ہوگا، وہاں کی پچز مختلف ہوتی ہیں، جوہانسبرگ میں باؤنس زیادہ اور ہائی اسکورنگ میچز ہوتے ہیں، کیپ ٹاؤن کی پچ سلو اور اسپن بولنگ کے لیے مددگار ہوتی ہے، ہم اپنے کھلاڑیوں کو مختلف کنڈیشنز میں تیار کر رہے ہیں تاکہ وہ ہر طرح کے حالات میں بہتر کارکردگی دکھا سکیں۔
پاکستان ہی نہیں دیگر بڑی ٹیمیں بھی بھارت کیخلاف مشکلات کا شکار ہیں
روایتی حریف کے خلاف آئی سی سی اور اے سی سی ایونٹس میں مسلسل شکستوں کے سوال پر مائیک ہیسن نے کہا کہ اس وقت بھارت وائٹ بال کرکٹ میں دنیا کی بہترین ٹیم اور مسلسل کامیابیاں حاصل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دیگر بڑی ٹیمیں بھی اس کے خلاف مشکلات کا شکار ہیں، گوکہ حال ہی میں اسے آئرلینڈ نے دونوں میچز میں ہرایا لیکن یہ 16 سیریز فتوحات کے بعد اولین ناکامی تھی، بھارتی ٹیم نے ایک معیار قائم کر دیا جس تک پہنچنا ہمارا ہدف ہے۔
شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں اچھی قیادت کی ہے
مائیک ہیسن نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی نے ون ڈے کرکٹ میں اچھی قیادت کی ہے، ایک فاسٹ بولر کے لیے کپتانی کرنا چیلنج ہوتا ہے لیکن انہوں نے عمدہ کام کیا۔ ان کی قیادت میں ہم نے چار میں سے تین سیریز جیتی ہیں، ان میں مضبوط ٹیموں کے خلاف کامیابیاں بھی شامل ہیں۔
سلمان علی آغا کو ٹی ٹوئنٹی کپتانی سے ہٹانے کے سوال پر کوچ نے کہا کہ میں نے پاکستان میں رہ کر جلد سیکھ لیا کہ افواہوں پر ردعمل نہیں دینا چاہیے۔
بابر نے پی ایس ایل میں اچھا پرفارم کیا لیکن ٹیم میں مقابلہ سخت ہے
مائیک ہیسن نے کہا کہ بابر اعظم نے پی ایس ایل میں شاندار کارکردگی دکھائی اور خاصے رنز بنائے، وہ مختلف کنڈیشنز میں خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن ٹیم میں مقابلہ سخت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایشین گیمز کو نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے موقع کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، کچھ کو ٹیسٹ مصروفیات کی وجہ سے شامل نہیں کیا گیا لیکن یہ پلیئرز کا ایک پرجوش گروپ ہے جس کے ساتھ کام کرنے کا مجھے انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ صاحبزادہ فرحان ایک تجربہ کار ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی بنتے جا رہے ہیں، اگرچہ انہوں نے زیادہ کپتانی نہیں کی لیکن ان کے ساتھ موجود صائم ایوب اور عبدالصمد ایک اچھا لیڈرشپ گروپ تشکیل دیتے ہیں۔
وکٹ کیپرز میں غازی غوری اور روحیل نذیر متاثر کن ہیں
کوچ نے کہا کہ وکٹ کیپنگ کے حوالے سے ہمارے پاس موجود نوجوان غازی غوری اور روحیل نذیر متاثر کن رہے ہیں، عثمان خان قابل وکٹ کیپر ہونے کے ساتھ جارحانہ بیٹنگ آپشن بھی فراہم کرتے ہیں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میرا کام کسی ایک کھلاڑی کو ترجیح دینا نہیں بلکہ پوری ٹیم کو بہتر بنانا اور پاکستان کے لیے فتوحات حاصل کرنا ہے، گزشتہ 12 ماہ کے دوران ہماری جیت کی شرح میں اضافہ ہوا لیکن ابھی بہت بہتری کی گنجائش ہے۔
کھلاڑیوں میں ہم آہنگی اور صلاحیت کے مطابق انتخاب ضروری ہے
تینوں طرز کی الگ ٹیموں کے سوال پر ہیسن نے کہا کہ ہر فارمیٹ میں بہترین کھلاڑی منتخب کرنے ہوتے ہیں، تین الگ ٹیمیں بنانے کے بجائے کھلاڑیوں میں ہم آہنگی اور صلاحیت کے مطابق انتخاب ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا ٹیسٹ کوچ سرفراز احمد سے بہت زیادہ رابطہ نہیں ہوتا لیکن وقتاً فوقتاً ملاقات ضرور ہوتی رہتی ہے، وہ پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے جذبہ اور کوچنگ کے حوالے سے تجربہ بھی رکھتے ہیں۔
فاسٹ بولنگ پر کام کے بوجھ کو مناسب طریقے سے دیکھنا چاہیے
کوچ نے کہا کہ فاسٹ بولرز کی اسپیڈ میں کمی بعض اوقات ذاتی وجوہات اور کبھی زیادہ بولنگ کی وجہ سے ہوتی ہیں، اگر آپ فاسٹ بولنگ کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ کام کے بوجھ کو مناسب طریقے سے دیکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی پلیئر پورے سال تیز بولنگ نہیں کر سکتا، ہمیں بھی ان پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہوئے مسلسل استعمال کے بجائے مختصر و جارحانہ اسپیلز میں استعمال کرنا چاہیے، محض اسٹاک بولر کے طور پر استعمال کا کوئی فائدہ نہیں ہونا۔
کئی نوجوان پاور ہٹرز موجود ہیں
مائیک ہیسن نے کہا کہ ہمارے پاس عبدالصمد، فرحان یوسف، حیدر علی اور عثمان خان جیسے کئی پاور ہٹرز موجود ہیں، شاداب خان بطور فنشر بہترین ہیں، ہمیں ایسے کھلاڑی درکار ہیں جو انٹرنیشنل سطح پر مستقل مزاجی سے کارکردگی دکھا سکیں۔
امریکا میں کیمپ کے حوالے سے فی الحال کوئی اپڈیٹ نہیں ہے
امریکا میں کیمپ کے حوالے سے کوچ نے کہا کہ فی الحال کوئی نئی اپڈیٹ نہیں ہے لیکن کچھ کھلاڑیوں کو مختلف کیمپس میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ مختلف طریقوں سے سیکھ سکیں اور تجربہ حاصل کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل