Loading
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اگر ایک فلم سمجھ لیا جائے تو اس کے کردار کبھی مستقل دوست نہیں رہتے اور نہ ہی ہمیشہ دشمن۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کے تعلقات بھی کچھ اسی اسکرپٹ پر چلتے رہے ہیں، جہاں کل کا اتحادی آج کا مخالف اور آج کا دشمن کل کا پارٹنر بن سکتا ہے۔
مذہبی حلقوں کی شعلہ بیانی اور عاقبت نااندیشی کے سبب عوامی سطح ایک غلط تاثر بھی پروان چڑھ چکا ہے کہ ایران اور اسرائیل ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ازلی دشمن رہے ہیں۔ مگر تاریخ اس تقّیے سے بھرپور بیانیے کو ماننے سے انکاری ہے۔
آج جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کھلی دشمنی نظر آتی ہے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ تعلق ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کا تنازع محض آج کی خبروں یا حالیہ جنگی بیانات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل، پیچیدہ اور کئی پرتوں پر مشتمل تاریخی عمل ہے۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم مذہبی جذبات یاعارضی جھوٹے بیانیوں سے ہٹ کر اس کے پس منظر میں جھانکیں، جہاں مفادات، خوف، نظریات اور طاقت کی سیاست ایک دوسرے میں گتھی ہوئی نظر آتی ہے۔
1951 میں جب محمد مصدق ایران کے وزیرِاعظم بنے تو ان کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایران کے تیل کو ایرانی عوام کے کنٹرول میں دینے کی کوشش کی۔ برطانیہ جو عرصہ دراز سے ’’اینگلو ایرانی آئل کمپنی‘‘ کے ذریعے ایران کے وسائل پر قابض تھا، اُسے یہ اقدام سخت ناگوار لگا۔ امریکا (جو اُس وقت خود کو عالمی طاقت کے طور پر منوانے کی جستجو میں مگن تھا) نے بھی اس معاملے میں برطانیہ کا ساتھ دیا۔
1953 میں ایک خفیہ آپریشن کے ذریعے مصدق کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور محمد رضا شاہ پہلوی کو دوبارہ اقتدار میں بٹھا دیا گیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں سے ایرانی عوام کے ذہن میں امریکا کے خلاف عدم اعتماد نے جنم لیا، جو بعد میں شدید نفرت میں تبدیل ہوگیا۔
رضا شاہ پہلوی کا ایران اب ایک مختلف ایران تھا۔ ایک ایسا ملک جو بظاہر خودمختار تھا مگر عملی طور پر آقائے فرنگ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر اُن کے اشاروں پر ناچ رہا تھا۔ 1957 میں ’’ایٹمز فار پیس‘‘ پروگرام کے تحت امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے میں مدد فراہم کی، اور یہ حقیقت اکثر نظر انداز کردی جاتی ہے کہ آج جس جوہری پروگرام کو بنیاد بنا کر ایران پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، اس کی ابتدائی اینٹ خود امریکا نے رکھی تھی۔ اسی دوران ایران نہ صرف امریکا کا قریبی اتحادی تھا بلکہ اسرائیل کے ساتھ بھی اس کے تعلقات غیر معمولی حد تک مضبوط تھے۔
یہاں ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے جسے عام طور پر عوامی بیانیے میں جگہ نہیں دی جاتی۔ ایران اور اسرائیل ہمیشہ دشمن نہیں تھے، بلکہ ایک وقت تھا جب دونوں ممالک خطے میں ایک دوسرے کے اسٹریٹجک پارٹنر سمجھے جاتے تھے۔ ایران ترکی کے بعد دوسرا مسلم ملک تھا جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم تھے، سفارت خانے موجود تھے، اور تجارتی روابط اس قدر مضبوط تھے کہ ایران اسرائیل کو تیل فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل تھا۔ یہ تعلق محض رسمی نہیں تھا بلکہ اس میں انٹیلی جنس تعاون، عسکری اشتراک اور مشترکہ منصوبے بھی شامل تھے۔
اسرائیل (جسے اپنے قیام کے بعد کبھی عرب دنیا کی شدید مخالفت کا سامنا رہا کرتا تھا) نے ’’پیری فیری ڈاکٹرائن‘‘ کے تحت غیر عرب ممالک، جیسے ایران اور ترکی کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا تاکہ وہ خطے میں اپنے لیے ایک توازن پیدا کرسکے۔ دوسری طرف شاہ ایران بھی سمجھتے تھے کہ امریکا کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے کےلیے اسرائیل کے ساتھ قربت ضروری ہے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں ممالک نہ صرف ایک دوسرے کے قریب آئے بلکہ کئی معاملات میں ایک دوسرے کے لیے ناگزیر بھی بن گئے۔
1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جب عرب ممالک نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو سپلائی بند کر دی، تو ایران ہی وہ ملک تھا جس نے اسرائیل کو تیل کی فراہمی جاری رکھی۔ یہ محض ایک اسٹریٹجک اقدام تھا جس نے اسرائیل کو جنگی دباؤ کے باوجود کھڑا رہنے میں مدد کی۔ اسی طرح 1977 میں ’’پراجیکٹ فلاور‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ عسکری منصوبہ شروع کیا گیا، جس کا مقصد جدید میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری تھا۔ یہ تمام حقائق اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ ایران اور اسرائیل کا تعلق کبھی محض رسمی یا وقتی نہیں تھا بلکہ گہری اسٹریٹجک بنیادوں پر قائم تھا۔
یادِ ماضی عذاب ہے یا رب۔
پھر 1979 آیا، اور سب کچھ بدل گیا۔ انقلابِ خمینیت نے نہ صرف بادشاہت کا خاتمہ کیا بلکہ پورے خطے کی سیاسی حرکیات کو تبدیل کردیا۔ موسوی کی قیادت میں قائم ہونے والی اس شدت پسند حکومت نے اپنی بنیاد ہی امریکا اور اسرائیل کی مخالفت پر رکھی۔ جس کے امریکا کو ’’بڑا شیطان‘‘ اور اسرائیل کو ’’چھوٹا شیطان‘‘ قرار دینے والے دلفریب نعرے نے ایران کی خارجہ پالیسی کو مکمل طور پر تبدیل کرکے رکھ دیا۔
لیکن یہاں بھی حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی نظر آتی ہے۔ انقلاب کے فوراً بعد جب عراق نے ایران پر حملہ کیا تو ایران کو اسلحے کی شدید کمی کا سامنا تھا۔ ان حالات میں، بظاہر شدید دشمنی کے باوجود، ایران نے اسرائیل سے اسلحہ خریدا۔ نہ صرف یہ بلکہ ایرانی فوجی کمانڈرز کی تربیت بھی اسرائیلی نظام کے تحت ہوئی۔ یہ وہ حقیقت ہے جو اس پورے بیانیے کی پیچیدگی کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ نظریات اپنی جگہ ہوتے ہیں مگر مفادات اپنی جگہ۔
پس کوئی ہے جو غور کرے۔
ایران عراق جنگ کے بعد حالات نے ایک نیا رخ اختیار کیا۔ ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کےلیے مختلف شیعہ گروہوں کی حمایت شروع کی، جبکہ اسرائیل نے اسے اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھنا شروع کردیا۔ تہران میں اسرائیل کا سفارت خانہ فلسطینی تنظیم کو دے دیا گیا، اور یوں دونوں ممالک کے تعلقات جو کبھی تعاون پر مبنی تھے، کھلی دشمنی میں بدل گئے اوریہ دشمنی صرف بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے پراکسی جنگوں، خفیہ آپریشنز اور براہ راست حملوں کی شکل اختیار کرلی۔ لبنان میں حزب اللہ کی صورت میں ایران کا اثر، شام میں اس کی موجودگی، اور اسرائیل کی جانب سے ان اہداف پر حملے۔ یہ سب اسی طویل تاریخی عمل کا تسلسل ہیں۔
اگر اس پوری تاریخ کو ایک جملے میں سمیٹا جائے تو شاید یہ کہا جاسکتا ہے کہ ایران اور اسرائیل کا تعلق محبت اور نفرت کے درمیان جھولتا ہوا ایک ایسا رشتہ ہے جسے صرف مذہب یا نظریے کے زاویے سے سمجھنا ممکن نہیں۔ اس میں طاقت کی سیاست، علاقائی برتری کی خواہش، عالمی قوتوں کے مفادات اور داخلی سیاسی عوامل سب شامل ہیں۔
عوامی سطح پر سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے کہ اس تنازع کو ایک سادہ مذہبی جنگ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر یہ صرف مذہب کا معاملہ ہوتا تو وہی ایران جو ایک وقت میں اسرائیل کو تیل فراہم کر رہا تھا، اس کے ساتھ عسکری تعاون کر رہا تھا، وہ کبھی اس کا اتحادی نہ بنتا۔ اسی طرح اگر یہ صرف نظریاتی جنگ ہوتی تو ایران انقلاب کے بعد اسرائیل سے اسلحہ نہ خریدتا۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، اور یہی مفادات وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ امریکا، ایران اور اسرائیل کا تنازع بھی اسی اصول کے تحت چل رہا ہے کہ جہاں کل کا اتحادی آج کا دشمن ہے اور آج کا دشمن کل کا ممکنہ اتحادی بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا اگر ہم اس تنازع کو واقعی سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہبی جذباتی نعروں اور جھوٹے بیانیوں سے نکل کر تاریخ کی پیچیدگی کو قبول کرنا ہوگا، کیونکہ یہی اس خطے کی اصل حقیقت ہے۔
اسی تناظر میں ایک اور اہم پہلو جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ پاکستان میں موجود مذہبی حلقوں کا وہ بیانیہ ہے جس میں اس تنازع کو حق و باطل کی جنگ کے طور پر پیش کرکے ایران کو عالم ِ اسلام کے واحد ’’مردِ مجاہد‘‘ کے طور پر دکھایا جارہا ہے۔ یہ بیانیہ جذباتی طور پر کشش ضرور رکھتا ہے، مگر تاریخی اور سیاسی حقائق کے پیمانے پر یہ انتہائی گمراہ کن ہے۔ اگر یہ واقعی خالصتاً اسلام اور کفر کی جنگ ہوتی تو وہی ایران، جو 1979 سے پہلے اسرائیل کا قریبی اتحادی تھا، اس کے ساتھ سفارتی، عسکری اور معاشی تعلقات کیسے رکھتا؟ اگر یہ محض دینی جنگ ہوتی تو انقلاب کے بعد بھی ایران اسرائیل سے اسلحہ کیوں خریدتا؟ اور اگر یہ مکمل طور پر نظریاتی تصادم ہوتا تو مختلف ادوار میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، معاہدے اور پسِ پردہ رابطے کیوں ہوتے؟
سچ تو یہ ہے کہ ریاستیں مذہبی نعروں سے نہیں بلکہ اسٹریٹجک مفادات سے چلتی ہیں۔ ایران کی پالیسی بھی اسی اصول کے تحت تشکیل پاتی ہے، جیسے امریکا یا اسرائیل کی۔ ایران جہاں اپنے مذہبی بیانیے کوہتھیار کے طور پر استعمال کرتا ہے، وہیں اپنے علاقائی اثر و رسوخ، دفاعی حکمت عملی اور سیاسی مفادات کو بھی اوّلین ترجیح دیتا ہے۔ اسی طرح اسرائیل اور امریکا بھی اپنے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتے ہیں، نہ کہ کسی مذہبی تقسیم کے تحت۔ لہٰذا اس تنازع کو ’’اسلام بمقابلہ کفر‘‘ کے فریم میں دیکھنا نہ صرف تاریخی حقیقت سے انحراف ہے بلکہ یہ عوام کو ایک ایسی جذباتی کیفیت میں مبتلا کر دیتا ہے جہاں پیچیدہ حقائق نظر نہیں آتے۔ اس طرح کا بیانیہ نہ صرف تجزیے کی صلاحیت کو کمزور کرتا ہے بلکہ ہمیں عالمی سیاست کو سمجھنے کے بجائے صرف ردعمل دینے والا بنا دیتا ہے۔
اگر راقم اپنی اِس پوری تحریر کو ایک جملے میں سمیٹے تو وہ کچھ یوں ہوگا کہ:
’’ایران، اسرائیل کا تعلق محبت اور نفرت کے درمیان جھولتا ہوا ایک ایسا رشتہ ہے جسے صرف مذہب یا نظریے کے زاویے سے سمجھنا ممکن نہیں۔ اس میں طاقت کی سیاست، علاقائی برتری کی خواہش، عالمی قوتوں کے مفادات اور داخلی سیاسی عوامل سب شامل ہیں۔‘‘
تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ریاستیں مستقل دوست یا دشمن نہیں رکھتیں، بلکہ ان کے فیصلے مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ایران، امریکا اور اسرائیل ہمیشہ سے دشمن تھے، یا ہمیشہ دشمن رہیں گے ایک تاریخی اور گمراہ کُن غلط فہمی ہے۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ، اور شاید زیادہ دلچسپ بھی ہے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل