Friday, March 27, 2026
 

افغانستان میں انسانی حقوق کی  پامالی انتہا کو پہنچ گئی، طالبان رجیم کا مکروہ چہرہ بے نقاب

 



طالبان رجیم کی آمرانہ پالیسیوں نے افغانستان کو شدید معاشی، سماجی اور انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ انسانی حقوق کی افغان تنظیم رواداری نے افغانستان میں بڑھتے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کردیا، رواداری کی تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شہریوں کے بنیادی حقوق  کی پامالی، خواتین اوراقلیتوں پر ہونے والے مظالم میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال میں ہی ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور تشدد کے واقعات میں 40.4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، 611 افراد نشانہ بنے، سال 2025 میں آمرانہ پابندیوں اور جبری قوانین میں اضافے سے خواتین کے حقوق پامال کئے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کی عدالتوں نے کوڑوں سمیت مختلف جسمانی اور تذلیل آمیز سزائیں نافذ کیں جو  عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں، نسلی گروہ اور مذہبی اقلیتیں روزگار، معاشی مواقع، عوامی وسائل اور خدمات تک رسائی سے محروم  ہیں۔ انسانی حقوق کے آزاد اداروں  اورآزاد عدلیہ کی عدم موجودگی سے انسانی حقوق کی پامالی  میں اضافے اور انصاف کے تمام راستے بند ہو چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق طالبان رجیم نے افغانستان کو ایسے موڑ پر لاکھڑا کیا ہے جہاں قانون کی جگہ بندوق اور رواداری کی جگہ وحشت نے لے لی ہے، افغان طالبان رجیم کا موجودہ طرزِ حکمرانی بین الاقوامی انسانی حقوق کے چارٹر اور بنیادی انسانی اقدار کے منافی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل