Loading
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم نے افغانستان سے کہا یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں یا ہمارے حوالے کریں۔ اپنے غیرملکی دوروں سے متعلق اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ 21 سے 28 جولائی تک امریکا کا دورہ کیا، پاکستان کے پاس جولائی میں اقوام متحدہ کی صدارت تھی، اٹلانٹک کونسل میں میرے ایک جواب کو غلط رنگ دیا گیا اس کو ہم نے کلیئر کردیا جس کو انگریزی سمجھ نہیں آتی وہ انگریزی سمجھے کیونکہ وہاں ساری باتیں انگریزی میں ہوتی ہیں، میں نے برطانیہ کا دورہ کیا وہاں مختلف ملاقاتیں ہوئیں، برطانیہ کے وزیر خارجہ ان کے ڈپٹی وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی، کشمیری لیڈران سے ملاقات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن میں پنجاب لینڈ ڈیجیٹائزیشن کا افتتاح کیا، برطانیہ میں پاسپورٹ کا آپریشن ون ونڈو کیا، برطانیہ کو ڈائریکٹ فلائٹس اگلے مہینے میں شروع ہوں گی، پی آئی اے کی مانچسٹر کے لیے براہ راست فلائٹس ستمبر میں شروع ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ 20 اگست کو کابل کا دورہ کیا، کابل میں پاکستان، چین اور افغانستان کا سہ فریقی اجلاس ہوا، افغان وزیر خارجہ سے دوطرفہ ملاقات بھی ہوئی، اپریل میں دورہ افغانستان کے دوران جو اعلانات کیے گئے تھے اس پر عمل درآمد ہوا، افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کی اس بات کو سرہا، پاکستان نے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ مسترد کیا ہے پاکستان اپنی پالیسی پر قائم ہے۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ افغان قیادت سے ملاقات میں چین اور پاکستان دونوں کو سیکیورٹی تحفظات تھے، ہمارے تحفظ ٹی ٹی پی سے متعلق تھے، ہم نے افغانستان سے کہا یا تو ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کریں یا ہمارے حوالے کریں۔ نائب وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ چین کے وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا، چینی وزیر نے پاکستان میں مختلف ملاقاتیں کی، چینی وزیر خارجہ سے سی پیک ٹو پر بات ہوئی، ایم ایل ون اور قراقرم ہائی وے اس میں سر فہرست منصوبے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل