Loading
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے حضرت داؤد ؑ پر بننے والی فلم پر پابندی کے لیے دائر درخواست مسترد کردی۔
دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حضرت حضرت داؤد ؑ کے بارے میں کارٹون فلم بنائی گئی ہے۔ مسلمان کی حیثیت سے ہم تمام انبیا کا احترام کرتے ہیں، فلم کی نمائش اسلامی تعلیمات کیخلاف ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ فلم میں کیا قابل اعتراض بات ہے اس کی نشاندہی کریں۔ جسٹس یوسف سعید نے وکلا سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے یہ فلم دیکھی ہے؟ جس پر وکیل کے جواب پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ جو فلم آپ نے خود دیکھی ہے ، آپ چاہتے ہیں کہ وہ دوسرے نہ دیکھیں۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ فلم صرف سنیماؤں کے لیے تو مخصوص نہیں ۔ یہ تو متعدد پلیٹ فارمز پر ریلیز ہوتی ہیں۔ عدالت نے ابتدائی مرحلے پر ہی درخواست مسترد کردی۔
واضح رہے کہ درخواست میں وزارت اطلاعات و نشریات، پیمرا، فلم سنسر بورڈ اور دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔ درخواست فیصل احمد ایڈووکیٹ کے توسط سے عبد الرزاق نامی شہری نے دائر کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل