Friday, January 09, 2026
 

مبینہ جعلی پولیس مقابلہ؛ سی ٹی ڈی افسران کیخلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنیکا حکم

 



راولپنڈی میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے معاملے میں عدالت نے سی ٹی ڈی کے افسران کے خلاف قتل کی دفعہ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبزادہ نقیب شہزاد نے فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شہری کو گھر سے گرفتار کر کے قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ وارث خان کے علاقے سے نعیم عرف گڈو کو 30 نومبر کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا، جسے بعد ازاں چکوال میں مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ مقتول کی بہن آسیہ بی بی کی جانب سے مقدمہ اندراج کی درخواست دائر کی گئی تھی، جس پر عدالت نے سماعت کے بعد اہم احکامات جاری کیے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی بھی جرم میں سزا و جزا کا اختیار عدالتوں کو حاصل ہے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ملزم کو گھر سے اغوا کیا گیا۔ فوٹیج میں پولیس اہلکار خطرناک اسلحہ پکڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ سی ٹی ڈی کے تمام ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالتی حکم کے مطابق انسپکٹر شفقت، انسپکٹر محسن شاہ، انسپکٹر سردار عاصم کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے جبکہ کانسٹیبلان ملک عابد، عدنان، علی شاہ اور بلال شاہ کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے تمام پولیس افسران اور اہلکاروں کو مقدمے میں نامزد کیا جائے۔ ایڈیشنل سیشن جج نے ایس ایچ او تھانہ وارث خان کو حکم دیا کہ ملزم کی گرفتاری سے متعلق فوٹیج کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا جائے اور مقتول کی بہن آسیہ بی بی کا بیان بھی ریکارڈ کیا جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل