Loading
صومالی لینڈ تنازع پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج جدہ میں ہوگا جس میں صومالی لینڈ کے خود ساختہ اعلان آزادی پر بحث کے بعد اس کی مذمت کی جائیگی۔ وزیرخارجہ اسحق ڈاربھی اس اجلاس میں پاکستان کا نقطہ نظر پیش کرینگے۔
دفترخارجہ کے مطابق اوآئی سی کا یہ ہنگامی اجلاس اسرائیل کی طرف سے صومالی لینڈ کو خود مختارملک تسلیم کرنے کے اعلان اور اس کے بعد صومالیہ میں ہونے والی تیزتر اشتعال انگیزتبدیلیوں کے تناظر میں ہورہا ہے ۔
او آئی سی اسرائیل کے اس اعلان کو صومالیہ کی خود مختاری اورعلاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قراردے چکی ہے۔اس اجلاس میں وزیرخارجہ اسحاق ڈارپاکستان کی طرف سے صومالیہ کی عالمی طورپر تسلیم شدہ سرحدوں کے اندر اس کے اتحاد اور سلامتی کی بھرپورحمایت کا اعادہ کریں گے۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار باقی ملکوں کے ہم منصبوں کے ساتھ علاقائی اورعالمی سطح پر ہونے والی وسیع ترتبدیلیوں کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال بھی کرینگے۔اوآئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تنظیم کے اس اجلاس کا مقصد عالمی قانون ،اقوام متحدہ کے چارٹر اور اوآئی سی کی قراردادوں کے مطابق صومالیہ کی علاقائی سلامتی اور خود مختاری کی بھرپور حمایت کرنا ہے ۔
صومالی لینڈ صومالیہ کے شمال مغرب میں وہ خطہ ہے جس نے صومالیہ کی مرکزی حکومت کے خاتمہ کے بعد 1991ء میں اپنی آزادی کا اعلان کردیا تھا۔اب اس علاقے کی اپنی انتظامیہ،اپنا سکیورٹی نظام ہے اوریہاں وقفے وقفے سے الیکشن ہوتے رہتے ہیں۔اسے ابھی تک اقوام متحدہ یا کسی بڑی عالمی تنظیم نے خود مختار ملک کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
اسرائیل کی طرف سے حال ہی صومالی لینڈ کو خود مختارملک تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد نہ صرف صومالیہ بلکہ مسلم دنیا میں بھی بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔پاکستان عالمی فورمز پر صومالیہ کی یکجہتی اور خود مختاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل