Sunday, January 11, 2026
 

حکومت سندھ کا مختلف محکموں میں کرپشن کی شکایات پر سخت کارروائی کا فیصلہ

 



حکومت سندھ نے صوبے بھر میں مختلف بڑے محکموں کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن کی شکایات پر سخت کارروائی کا فیصلہ کرلیا۔ اس سلسلے میں وزیر اینٹی کرپشن سندھ سردار محمد بخش مہر کی صدارت میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں محکمہ اینٹی کرپشن کی سالانہ کارکردگی رپورٹ اور مختلف محکموں کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن شکایات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جبکہ شکایات پر سخت اور فوری کارروائی کی منظوری دیتے ہوئے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ یکم جنوری تا 31 دسمبر 2025 کے دوران اینٹی کرپشن کی کمیٹی ون، ٹو اور تھری کے مجموعی طور پر 28 اجلاس منعقد ہوئے جن میں 536 کیسز اور 328 اوپن انکوائریز شامل تھیں۔ ان اجلاسوں کے دوران 23 ری انکوائریز، 15 کیسز بند، 103 کیسز متعلقہ محکموں کو ارسال، 43 کیسز ڈیفر اور 24 ایف آئی آرز کی منظوری دی گئی۔ ڈی جی اینٹی کرپشن امتیاز علی ابڑو نے بتایا کہ سندھ بھر میں 22 مختلف محکموں کے خلاف مجموعی طور پر 13 ہزار 603 کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ ان میں ایس بی سی اے کے خلاف 1022، کے ڈی اے 408، بلدیات 1623، ریونیو 2598، تعلیم 841، پولیس 1211، ورکس اینڈ سروسز 736، صحت 595، پبلک ہیلتھ 344، فوڈ ڈپارٹمنٹ 255، فاریسٹ 216 اور محکمہ آبپاشی کے خلاف 619 شکایات شامل ہیں۔ ترجمان اینٹی کرپشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران 9 ہزار 423 کیسز کی تصدیق موصول ہوئی، جبکہ مجموعی طور پر 18 ہزار 288 کیسز زیرِ تصدیق اور 6 ہزار 835 کیسز نمٹائے جا چکے ہیں۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ شکایات کے ازالے کی شرح سال 2023 میں 11 فیصد، 2024 میں 24 فیصد جبکہ 2025 میں 37.37 فیصد رہی۔  ترجمان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن عدالت اور فیلڈ سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا کہ سندھ بھر میں 45 نئے کیسز موصول ہوئے، 812 کیسز عدالتوں میں بھیجے گئے، 2 افراد کو سزا سنائی گئی، 2 ٹریپ کارروائیاں اور 22 سرپرائز وزٹس کیے گئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اینٹی کرپشن سردار محمد بخش مہر نے ہدایت دی کہ مختلف محکموں کے افسران کے خلاف موصول ہونے والی کرپشن شکایات پر فوری اور بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ عوام کا اعتماد برقرار رکھنا ہر افسر کی اولین ذمہ داری ہے، ہر کیس میں بلا تعطل اور شفاف طریقے سے کارروائی یقینی بنائی جائے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل