Thursday, January 15, 2026
 

انتہا پسندی کے سدباب کیلیے قائم قومی پیغام امن کمیٹی کی مختصر عرصے میں نمایاں سرگرمیاں

 



انتہا پسندی و فرقہ واریت کے فکری و عملی سدباب کے لیے قائم قومی پیغامِ امن کمیٹی نے مختصر عرصے میں نمایاں سرگرمیاں دکھائی ہیں۔ قومی پیغام امن کمیٹی کے ذریعے تمام مسالک و اقلیتیوں کو ایک قومی پلیٹ فارم مہیا کرنا اہم مقصد تھا۔ 16 ستمبر 2025 کو پہلے اجلاس میں اسلامی اصولوں کی روشنی میں جامع قومی بیانیہ کی تشکیل اور نفرت انگیز و پُرتشدد بیانیوں کے خلاف ریاستی معاونت کا فریم ورک طے ہوا۔ پیغامِ پاکستان کو مرکزی قومی بیانیہ بنانے، سماجی ہم آہنگی کے فروغ اور حقائق پر مبنی مثبت پیغام رسانی کے ذریعے سلامتی اقدامات مضبوط بنانے کے اہداف مقرر ہوئے۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی کی 12 اور 13 جنوری کو وفاقی وزیر اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر سے اہم اور تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں۔ ملاقاتوں میں ضلعی سطح پر کمیٹیوں کے قیام، مدارس کے نصاب میں قومی بیانیے کی شمولیت اور میڈیا کے مؤثر استعمال پر اتفاق کیا گیا۔ رمضان المبارک میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ، فرقہ وارانہ مواد کے فوری تدارک اور سوشل میڈیا پر ریاست مخالف بیانیوں کے مقابلے کے لیے خصوصی ٹیم کی منظوری دی گئی۔ آئندہ جمعہ کو یومِ پیغامِ پاکستان اور پیغامِ پاکستان ویک منانے کا اعلان کیا گیا، جمعہ خطبات میں قومی بیانیہ کے نکات شامل کرنے کی سفارش کی گئی۔ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس، فتنۃ خوارج و افغان طالبان کی کارروائیوں کی مذمت اور ریاست دشمن پروپیگنڈے کے خلاف مشترکہ بیانیے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ کشمیر و غزہ پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی توثیق، مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستیں بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ کمیٹی کا 14 جنوری کو خیبر پختونخوا کا پہلا باضابطہ دورہ کیا اور گورنر فیصل کریم کنڈی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات ہوئی۔ گورنر سے ملاقات میں متفقہ اعلان کیا گیا کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور پیغامِ پاکستان آئین کے بعد سب سے مضبوط قومی دستاویز ہے۔ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریاستِ پاکستان اور اس کے اداروں کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ قومی پیغامِ امن کمیٹی نے کور کمانڈر پشاور سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں خوارج کے نظریے کو فکری سطح پر شکست دینے، داخلی سہولت کاری کے خاتمے اور پیغامِ پاکستان کو نصاب و مذہبی لٹریچر کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل