Loading
اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے افسوسناک دھماکے کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف متاثرہ گھروں میں پہنچ گئے اور متاثرین سے ملاقات کی۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واقعے کو ایک بڑا صدمہ اور قومی المیہ قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ واقعہ نہایت دلخراش ہے، ایک خوشی کا موقع غم میں تبدیل ہوگیا، جس پر ہمیں دلی افسوس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے قبل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور چیئرمین سی ڈی اے بھی متاثرہ علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔
سردار یوسف نے کہا کہ متاثرہ علاقے میں رہنے والی کرسچن کمیونٹی ہمارے معاشرے کا اہم حصہ ہے اور حکومت اس دکھ کی گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزارت مذہبی امور کے تمام متعلقہ افسران متاثرین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ گیس لیکیج کے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ، پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمی افراد کو وزارت مذہبی امور کی جانب سے 50 ہزار روپے فی کس امداد فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تفصیلات وزیر اعظم تک پہنچائی جائیں گی اور متعلقہ ادارے اپنی رپورٹس پیش کریں گے۔ سردار یوسف کے مطابق متاثرہ علاقے کی بڑی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے ری کنسٹرکشن کی ضرورت ہے، جس کے لیے حکومت مناسب ہدایات جاری کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ان کا دورے کا مقصد خود موقع پر جا کر حالات کا جائزہ لینا اور متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کرنا تھا، حکومت اس ناگہانی آفت میں متاثرہ خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل