Loading
بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ تین روز سے جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں فتنۃ الہندوستان کے 197 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف تعاقبی اور سینیٹائزیشن آپریشنز تاحال جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ مادر وطن اور معصوم شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے پاکستان کے 22 بہادر جوانوں بشمول آرمی، ایف سی، پولیس اور پی ایم ایس اے نے جام شہادت نوش کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان دہشت گردوں کی بربریت کا شکار معصوم شہریوں بشمول مقامی شہریوں کی تعداد 36 ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 31 جنوری 2026 کو بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی غرض سے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی کے علاقوں میں متعدد دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔
آئی ایس پی آر نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا اور کلیئرنس آپریشن کے دوران دو خودکش بمباروں سمیت 92 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا، فورسز نے کارروائیوں کے دوران مقامی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنایا۔
بدقسمتی سے، کلیئرنس آپریشنز اور شدید جھڑپوں کے دوران وطن کے 15 بہادر سپوتوں نے دلیری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور عظیم قربانی دی۔
بلوچستان میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کی چین، امریکا اور یورپی یونین کے ممالک اور ایران سمیت دیگر نے شدید مذمت کی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل