Loading
بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں تعینات امریکی اور ایرانی افواج کے درمیان ہونے والی دو جھڑپوں سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان تازہ جھڑپوں کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان متوقع سفارتی مذاکرات بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہوگئے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کے قریب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون نے اشتعال انگیز انداز میں بحری جہاز کی جانب پرواز جاری رکھی حالانکہ امریکی افواج نے تناؤ کم کرنے کے اقدامات کیے تھے۔
ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے بتایا کہ ایک F-35C لڑاکا طیارے نے دفاعی اقدام کے طور پر ڈرون کو نشانہ بنایا۔ واقعے میں کوئی امریکی اہلکار زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی امریکی سازوسامان کو نقصان پہنچا۔
دوسری جانب ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بھی تصدیق کی کہ پاسدارانِ انقلاب کا ایک ڈرون عرب سمندر میں نگرانی اور فلم بندی کے مشن کے دوران لاپتا ہوگیا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق ڈرون نے اپنی نگرانی کی فوٹیج کامیابی سے بیس تک منتقل کر دی تھی۔ ڈرون سے رابطہ منقطع ہونے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
اسی روز چند گھنٹوں بعد آبنائے ہرمز میں ایک اور کشیدہ صورتحال سامنے آئی جب ایرانی پاسداران انقلاب کی دو گن بوٹس نے امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر ایم/وی اسٹینا امپیریٹو کے قریب تیز رفتاری سے تین چکر لگائے اور ریڈیو کے ذریعے جہاز پر چڑھائی اور قبضے کی دھمکی دی۔
اس دوران ایک ایرانی ڈرون بھی امریکی پرچم بردار کیمیکل ٹینکر کے اوپر پرواز کرتا دیکھا گیا۔ جس سے صورت حال کشیدہ ہوگئی۔
امریکی بحریہ کے ڈسٹرائر یو ایس ایس مک فال نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے ٹینکر کو علاقے سے بحفاظت نکالا جبکہ امریکی فضائیہ نے فضائی معاونت فراہم کی۔
امریکی کیپٹن ہاکنز نے ایرانی رویے کو غیر پیشہ ورانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی پانیوں میں اس قسم کی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ دونوں واقعات ایسے وقت پیش آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کو اہم سفارتی مذاکرات طے تھے جن کا مقصد ممکنہ فوجی تصادم کو روکنا تھا۔
ذرائع کے مطابق ایران نے اچانک مذاکرات کے مقام، شرکاء اور ایجنڈے سے متعلق نئی شرائط رکھ دی ہیں۔
ایران کا مطالبہ ہے کہ یہ مذاکرات استنبول کے بجائے عمان میں ہوں جس میں ثالثی ممالک کو شرکت نہ کرنے دیا جائے اور بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رکھا جائے۔
دوسری جانب امریکا کا مؤقف ہے کہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے حمایت یافتہ گروہوں کا معاملہ بھی شامل ہونا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ کے مطابق مذاکرات تاحال شیڈول کے مطابق ہیں، تاہم صدر ٹرمپ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
ابراہم لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کے ساتھ تین گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر اور جدید لڑاکا طیاروں پر مشتمل فضائی ونگ بھی تعینات کیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں یو ایس ایس مک فال، یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک اور یو ایس ایس مٹشر پہلے سے خطے میں موجود ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل