Tuesday, February 10, 2026
 

سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف درخواستیں نمٹادیں

 



سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے تحریک انصاف کے کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف سرکاری وکیل کے حکومتی نوٹیفیکیشن پیش کرنے پر درخواستیں نمٹادیں۔ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ کے روبروتحریک انصاف کے کارکنوں کی نظر بندی کیخلاف درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ درخواستگزار کے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے موقف دیا کہ غیر قانونی نظر بندی کے احکامات سے 187 سے زائد فیملیز متاثر ہورہی ہیں۔ نقص امن کے الزام کے تحت کارکنان کو نظر بند کیا گیا ہے۔ کارکنان کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔ پولیس کی جانب سے کارکنان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارے جارہے ہیں۔ نظر بندی کا نوٹیفکیشن سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے اور طے کردہ اصولوں کیخلاف ہے۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا ہے۔ محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کردیا گیا۔ عدالت نے پی ٹی آئی کارکنوں کی نظر بندی سے متعلق دائر درخواستیں نمٹادی۔ سماعت کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی ایم پی اے کے کپڑے نہیں اتارے گئے، اس بدبودار نظام کے کپڑے اتارے گئے ہیں۔ سندھ بھر میں 400 سے زائد پی ٹی آئی کارکن جیلوں میں بند ہیں۔ 100 سے زائد افراد کو غیرقانونی طور پر تھانوں میں قید کیا گیا ہے۔ کورنگی میں ایم پی او کے تحت ہونے والا واقعہ شرمناک ہے۔ ایک کرمنل ایس ایس پی کو کورنگی میں لگایا گیا ہے۔ عزیز بلوچ کی جے آئی ٹی میں یہ ایس ایس پی کرمنل ثابت ہوا ہے۔ ہمارے کراچی کے صدر راجہ اظہر، فہیم خان کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ پرامن شٹر ڈاؤن پر گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں۔ نہ کوئی گملا ٹوٹا، نہ کوئی نقصان ہوا۔ 8 فروری 2024 کی طرح 2026 میں عوام نے گھروں میں رہ کر تاریخی احتجاج کیا۔ تھری ایم پی او کا استعمال آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ پیپلز پارٹی جمہوریت کی دعویدار ہے تو یہ کارروائیاں کیوں؟ بلاول بھٹو زرداری بتائیں کیا یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی پارٹی ہے؟ بیرسٹر علی نے طاہر نے کہا کہ ایم پی اوز غیر آئینی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔ پریونٹو ڈیٹینشن کا اختیار صرف صوبائی کابینہ کو حاصل ہے۔ ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم کو ایم پی او جاری کرنے کا اختیار نہیں۔ پہلے گرفتاری، پھر پریونٹو ڈیٹینشن آئین کے آرٹیکل 10 کی خلاف ورزی ہے۔ حکومت نے کابینہ کا فیصلہ عدالت میں پیش نہیں کیا۔ حکومت عدالت سے بھی حقائق چھپا رہی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل