Loading
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس سنگین حقیقت پر مہر ثبت کردی ہے جسے پاکستان برسوں سے عالمی برادری کے سامنے اجاگر کرتا آ رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے اور اس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی داخلی سلامتی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں زیادہ آزادی، سہولت اور نقل و حرکت کی گنجائش حاصل ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں شدت آئی۔ افغان حکام کا یہ دعویٰ کہ ان کی سرزمین پرکوئی دہشت گرد تنظیم موجود نہیں،کسی بھی رکن ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ صورتحال نہ صرف افغان طالبان کے سرکاری مؤقف کے لیے ایک چیلنج ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ایک کھلا خطرہ ہے۔ ایسے میں پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ اپنی افغان پالیسی، بارڈر مینجمنٹ اور داخلی سیکیورٹی حکمت عملی کا ازسرنو اور بے لاگ جائزہ لے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے، جنھوں نے سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اس جنگ میں ہمارے ہزاروں سیکیورٹی اہلکار اور شہری شہید ہوئے، معیشت کو اربوں ڈالرکا نقصان پہنچا اور سماجی و نفسیاتی سطح پر بھی قوم کوگہرے زخم سہنے پڑے۔ آپریشن ضربِ عضب اور رد الفساد جیسے اقدامات نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور ملک کے کئی علاقوں میں امن بحال ہوا، تاہم اگر سرحد پار موجود پناہ گاہیں برقرار رہیں اور دہشت گرد عناصرکو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملتا رہا تو ہمارے لیے خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ میں القاعدہ کی افغانستان میں موجودگی اور بالخصوص ٹی ٹی پی کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کی اطلاعات نے خطرے کی گھنٹی مزید بلند کر دی ہے۔ کابل میں القاعدہ کی قیادت کی موجودگی کے خدشات اور بیرونی کارروائیوں کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ محض دوطرفہ نہیں بلکہ عالمی نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں داعش خراسان کی شمالی افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے قریب فعالیت اور اس کی قابلِ ذکر صلاحیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی اور نیٹو اسلحے کے ذخائر دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگنے کی اطلاعات ہیں، جن کے باعث پاکستان میں حملوں کی مہلکیت اور شدت میں اضافہ ہوا۔ جدید ہتھیار، نائٹ وژن آلات اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال اس خطرے کی نوعیت کو بدل رہا ہے اور روایتی سیکیورٹی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت کو اجاگرکر رہا ہے۔
افغان طالبان رجیم کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ عالمی برادری محض بیانات سے مطمئن نہیں ہوگی، اگر کابل انتظامیہ یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گی تو اسے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا۔ دہشت گرد عناصر کے خلاف واضح کارروائی، سرحدی نگرانی کا مؤثر نظام اور انٹیلی جنس تعاون وہ اقدامات ہیں جو اعتماد کی بحالی میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عالمی جریدہ یوریشیا ریویو کی جانب سے پاکستان کے افغان سرحدی بندش کے فیصلے کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے جائز قرار دینا، اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان کے لیے سرحدی نظم و نسق محض تجارتی یا کسٹمز کا معاملہ نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔ جب ریاست کو اپنے شہریوں کی جان و مال کو لاحق خطرات کا سامنا ہو تو سرحدی اقدامات کو وقتی یا سیاسی تناظر میں نہیں بلکہ سلامتی کے وسیع تر مفاد میں دیکھنا چاہیے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ افغانستان میں جاری عدم استحکام صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ ایران، تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک بھی سرحدی دراندازی اور شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔ چین جیسے اہم علاقائی شراکت دار کے لیے بھی سنکیانگ کی سلامتی اور سی پیک کے تناظر میں افغانستان کی صورتحال غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ علاقائی سطح پر مربوط حکمت عملی اپنائی جائے، جس میں انٹیلی جنس شیئرنگ، سرحدی تعاون اور مشترکہ سفارتی دباؤ شامل ہو۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر عالمی فورمز پر مؤثر سفارت کاری کرے اور یہ واضح کرے کہ دہشت گردی کے مسئلے کو نظرانداز کرنا پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
داخلی سطح پر بھی جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ خیبر پختون خوا میں امن و امان کی صورتحال پر غور کے لیے منعقدہ سیکیورٹی کمیٹی اجلاس اور ملاکنڈ سمیت بہتر ہونے والے علاقوں میں فوج کی ذمے داریوں کی تدریجی منتقلی اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ریاست سول اداروں کو مضبوط بنانے کی خواہاں ہے۔ تاہم یہ منتقلی اسی صورت کامیاب ہوگی جب پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر صوبائی اداروں کو وسائل، تربیت اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض عسکری کارروائیوں سے نہیں جیتی جا سکتی بلکہ اسے ایک ہمہ جہت حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے جس میں انٹیلی جنس، عدالتی نظام، انسدادِ انتہا پسندی بیانیہ اور معاشی استحکام شامل ہوں۔
بلوچستان کی صورتحال بھی قومی توجہ کی متقاضی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کوئٹہ کا دورہ اور سیکیورٹی فورسز کے لیے مالی معاونت کا اعلان قومی یکجہتی کا مثبت اشارہ ہے۔ یہ پیغام اہم ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی ایک صوبے یا جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ بلوچستان کو فتنہ نہیں بلکہ فتنہ الخوارج کا سامنا ہے اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے سیاسی ہم آہنگی، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور عوامی اعتماد کی بحالی بنیادی عناصر ہیں۔ اسی تناظر میں خیبر پختون خوا کی قیادت کو بھی وفاق اور عسکری اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بنانا چاہیے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر قومی سلامتی پر یکسوئی ناگزیر ہے۔
پاکستان اور افغانستان دونوں ممالک کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ دوسری طرف قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ سرحدی باڑ کی تکمیل، قانونی آمدورفت کا سخت نظام، بائیو میٹرک تصدیق اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام وہ اقدامات ہیں جو فوری توجہ چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین کے مسئلے کو بھی قومی مفاد کے درمیان متوازن انداز میں حل کرنا ہوگا تاکہ دہشت گرد عناصر اس حساس معاملے سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
معاشی پہلو کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان کرتی ہے بلکہ سرمایہ کاری، سیاحت اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی متاثرکرتی ہے، اگر پاکستان کو معاشی بحالی اور استحکام کی راہ پرگامزن ہونا ہے تو امن و امان کی صورتحال کو پائیدار بنیادوں پر بہتر بنانا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، تعلیم اور ہنر مندی کی تربیت فراہم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا سیکیورٹی آپریشنز۔ انتہا پسند نظریات کا توڑ صرف بندوق سے نہیں بلکہ تعلیم، شعور اور سماجی انصاف سے بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ وقت جذباتی ردعمل کا نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اور دور اندیش فیصلوں کا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹ نے جو تصویر پیش کی ہے وہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ ایک تنبیہ ہے، اگر افغانستان اپنی ذمے داری پوری نہیں کرتا تو پاکستان کو اپنے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا، چاہے وہ سفارتی دباؤ ہو، سرحدی سختی ہو یا داخلی سیکیورٹی کی ازسرنو تشکیل۔ ساتھ ہی ہمیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ واضح، متحد اور غیر مبہم ہو۔ کسی بھی قسم کی نرم گوشہ پالیسی یا ابہام دہشت گرد عناصر کو تقویت دے سکتا ہے۔
پاکستان ایک نازک موڑ پرکھڑا ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے، علاقائی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اور قومی مفاد کو اولین ترجیح بناتے ہوئے ہمیں ایک جامع، مربوط اور مضبوط حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ دہشت گردی کا عفریت اگرچہ سر اٹھا رہا ہے، مگر قومی یکجہتی، مؤثر قیادت اور واضح پالیسی کے ذریعے اسے شکست دینا ممکن ہے۔ یہ نہ صرف ہماری سلامتی بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم متحد ہوں، حقیقت کو تسلیم کریں اور عملی اقدامات کے ذریعے امن و استحکام کی راہ ہموار کریں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل