Loading
ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے صارفین کے لیے ایک اہم سہولت متعارف کرادی ہے جس کے بعد دنیا بھر کے ناظرین کسی بھی ویڈیو کو اپنی مادری زبان میں دیکھ اور سن سکیں گے۔
اس نئے فیچر کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے مزید بہتر بنایا گیا ہے، جس سے زبان کی رکاوٹ بڑی حد تک ختم ہو جائے گی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوٹیوب نے اپنی اے آئی پر مبنی آٹو ڈبنگ ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اپ گریڈ کر دیا ہے۔ تازہ ترین اپ ڈیٹ کے تحت یہ فیچر اب 27 مختلف زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے، جس سے مختلف خطوں کے صارفین عالمی مواد تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔
نئے نظام کے تحت صارفین یوٹیوب کی سیٹنگز میں جا کر اپنی پسندیدہ زبان منتخب کرسکتے ہیں۔ اگر کسی ویڈیو کا ڈب شدہ ورژن دستیاب ہو تو پلیٹ فارم خودکار طور پر منتخب زبان میں ویڈیو چلا دیتا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی مواد کے استعمال کے انداز میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اب زبان سمجھنے کی رکاوٹ ویڈیو دیکھنے میں حائل نہیں رہے گی۔
اس اپ گریڈ کا ایک نمایاں پہلو ’’Expressive Speech‘‘ نامی نئی اے آئی ٹیکنالوجی ہے، جسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ اصل تخلیق کار کی آواز کا لہجہ، جذبات اور اندازِ بیان برقرار رکھا جا سکے۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد روایتی ڈبنگ میں پائی جانے والی سپاٹ اور مشینی آوازوں کو ختم کرنا ہے، جو اکثر مواد کے معیار کو متاثر کرتی تھیں۔
فی الحال انگریزی، فرانسیسی، جرمن، ہندی، انڈونیشی، اطالوی، پرتگالی اور ہسپانوی زبانوں میں ترجمہ شدہ ویڈیوز کے لیے ’’ایکسپریسیو اسپیچ‘‘ دستیاب ہے۔ کمپنی نے عندیہ دیا ہے کہ جلد ہی مزید زبانیں بھی اس فہرست میں شامل کر دی جائیں گی۔
یہ اقدام نہ صرف مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے عالمی سطح پر ناظرین تک پہنچنے کا موقع فراہم کرے گا بلکہ صارفین کو بھی دنیا بھر کی ویڈیوز اپنی زبان میں سمجھنے کا نیا تجربہ دے گا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل