Loading
بنگلا دیش میں 299 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کے غیر سرکاری اور غیرحتمی نتائج کا سلسلہ جاری ہے جس میں اصل مقابلہ بی این پی اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔
بنگلادیش کے مقامی میڈیا کے مطابق طلبا تحریک کے نتیجے میں حسینہ واجد کے طویل آمرانہ دور کے خاتمے اور بھارت فرار ہونے کے بعد قائم ہونے والی عبوری حکومت نے الیکشن کرانے کا وعدہ پورا کردیا۔
آج ملک بھر میں ہونے والے انتخابات مجموعی طور پر پُرامن اور شفاف رہے جس میں اب تک کسی کی جانب سے دھاندلی کے الزامات سامنے نہیں آئے ہیں تاہم حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ پابندی کے باعث الیکشن میں حصہ نہ لے سکی۔
اب تک کے غیر مصدقہ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج میں سابق وزیراعظم مرحومہ خالدہ ضیا کی جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی سب سے آگے ہے۔
والدہ کے حال ہی میں انتقال کے بعد بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کی قیادت خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان کر رہے ہیں۔
ابتدائی گنتی میں بی این پی 151 نشستوں پر برتری حاصل ہے جب کہ جماعت اسلامی 62 نشستوں پر برتری کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
بنگلا دیش کے مختلف میڈیا سے نشستوں کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں، ٹائمز آف بنگلا دیش نے بی این پی اور اس کی اتحادی جماعتوں کے 212 نشستوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے جبکہ 70 جماعت اسلامی اور 6 نشستوں پر آزاد امیدواروں کی کامیابی ظاہر کی ہے۔
ڈھاکا ٹریبون نے جماعت اسلامی کی 43 نشستوں پر کامیابی کی خبر دی ہے۔
ڈھاکا سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق بی این پی کے مرکزی آفس کے باہر بڑی تعداد میں اب بھی کارکنوں اور ووٹرز کی بڑی تعداد موجود ہے جو گزشتہ رات سے غیر سرکاری نتائج میں پارٹی کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں
البتہ دیگر جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی نشستیں یا پوزیشن ابھی تک واضح طور پر مکمل طور پر رپورٹ نہیں ہوئے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کو موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے اپنی سیٹ پر کامیابی حاصل کی، جبکہ سابق وزرا صلاح الدین احمد اور امیر خسرو محمود چودھری بھی فتح یاب ہوئے۔
پارٹی کے دیگر اہم رہنما لطف الزمان بابر، مرزا عباس اور فضل الرحمان بھی اپنی نشستیں جیتنے میں کامیاب رہے۔
بی این پی کی خواتین رہنما رضا کبریا اور بوبی حجاج بھی اپنی سیٹیں جیت گئے۔
عرب میڈیا کے مطابق شفیق الرحمٰن بھی جماعت اسلامی کی جانب سے فتح یاب ہوئے اور مقامی میڈیا کے مطابق انھیں 81,560 ووٹ ملے۔ نیشنل سٹیزن پارٹی کی رہنما ناہید اقبال بھی ڈھاکہ سے کامیاب رہیں۔
یاد رہے کہ بنگلادیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل