Sunday, February 15, 2026
 

سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج، سرکاری مدعیت میں جماعت اسلامی کیخلاف مقدمہ درج

 



جماعت اسلامی کی جانب سے سندھ اسمبلی کے باہراحتجاج دھرنے اورہنگامہ آرائی کے خلاف آرام باغ تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق مقدمہ 34 نامزد ملزمان سمیت 325 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ سرکارمدعیت میں مقدمے میں ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ،سڑک بند کرنے،کار سرکار میں مداخلت، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگردفعات کے تحت درج کرلیا گیا۔ احتجاجی دھرنے کے دوران پولیس ایکشن کے دوران جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے 30 افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس افسران و ملازمان زخمی بھی ہوئے۔ مقدمے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئیر قیادت صفیان دیلا،عثمان شریف ، فیضان ،جواد شعیب اوردیگرنامعلوم سینیئرقیادت دھرنے اوراحتجاج کی سرپرستی کررہے تھےاوراپنی تقریروں کے ذریعے اشتعال پھیلاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے۔ احتجاج میں 300 سے 325 افراد شامل تھے۔ دوران تقریراوردھرنے میں شامل افراد جو کہ ڈنڈوں ، لاٹھیوں اوراسلحہ سے مسلحہ ہوکراچانک مشتعل ہوگئے بلوا اورہنگامہ آرائی پراترآئے اورپولیس پرحملہ بول دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر راجہ مسعود،ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی ،ایس ایچ او  انسپکٹر شاہ فیصل خان ، پولیس کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے۔ متن کے مطابق مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اینٹی رائٹ کا استعمال کیا گیا اورمیگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہنگامہ آرائی نہ کریں اور منتشرہوجائیں لیکن ہجوم مشتعل رہا۔ اس کے بعد گیس شیلوں کے ذریعے ہجوم کومنشر کیا گیا۔ دوران ہنگامہ آرائی 30 افراد کوگرفتار کیا گیا جبکہ دیگر نامعلوم موقع پر سے فرار ہو گئے۔ موقع پرسے 30 بور پستول کے 5 چلیدہ خون ، نائن ایم ایم پستول کے 5 چلیدہ خول ، 15 ڈھنڈے ، مختلف سائز کے 35 پتھر،79گیس شیل کے خول پولیس قبضے میں لیے گئیے۔ ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے جس سے گورئمنٹ پراپرٹی کو نقصان ہوا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل