Loading
برطانیہ میں ایک خاتون افسر کو قاتل قیدی کے ساتھ افیئر رکھنے کے الزام میں قید کی سزا سنادی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالت میں سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پروبیشن افسر جیل کے اندر قیدی کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں ہیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق پروبیشن افسر نے سزا یافتہ قاتل قید کے ساتھ اُس وقت جنسی تعلق قائم کیا جب وہ جنوبی لندن کی جیل میں تعینات تھیں۔
دونوں کی ملاقات اسی جیل میں ہوئی، تاہم ان کے تعلقات اس وقت شروع ہوئے جب بیتھنی ڈینٹ رینالڈز کی تعیناتی دوسری جیل میں ہوئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قیدی کیرن رابنسن نے سب سے سوشل میڈیا پر بھی رابطہ کیا جس کے بعد خاتون افسر بیتھنی ڈینٹ رینالڈز متعدد بار جیل میں ملاقات کے لیے گئی تھیں۔
ان خفیہ ملاقاتوں کی ویڈیو بن گئی جسے پولیس نے بطور شواہد عدالت میں پیش کیا۔
پراسیکیوشن نے بتایا کہ خاتون افسر نے نہ صرف قیدی کے ساتھ جنسی نوعیت کے پیغامات کا تبادلہ کیا بلکہ پروبیشن ڈیپارٹمنٹ کے کمپیوٹر سسٹم سے رابنسن کے قتل کیس سے متعلق خفیہ ریکارڈز بھی غیر قانونی طور پر حاصل کیے اور تفصیلات قیدی کو بتائیں۔
خاتون افسر نے قیدی رابنسن کو یہ بھی کہا کہ اس کے ساتھ جرم میں شریک ملزمان نے سارا الزام اسی پر ڈال دیا اور مقدمہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ 12 جون 2024 کو کیرن رابنسن کے سیل کی تلاشی کے دوران بیتھنی ڈینٹ رینالڈز کا خط اور ایک ڈائری برآمد ہوئی جس میں اس کا پتہ، موبائل نمبر اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی تفصیل موجود تھی۔
بعد ازاں خاتون افسر کے موبائل فون سے واٹس ایپ پر موجود متعدد جنسی نوعیت کے پیغامات اور تصاویر بھی برآمد ہوئیں۔
سماعت کے بعد عدالت نے بیتھنی ڈینٹ رینالڈز کو سرکاری عہدے کے ناجائز استعمال کے جرم میں قصوروار ٹھہراتے ہوئے آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی۔
دفاع کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ کا ماضی بے داغ تھا اور ان کے تعلقات سے جیل کے نظام پر کوئی سنگین اثر نہیں پڑا، تاہم عدالت نے اسے عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
واضح رہے کہ کیرن رابنسن اور اس کے ایک کزن کو 18 سالہ نوجوان کے قتل کے جرم میں 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل