Wednesday, February 18, 2026
 

ایران امریکا مذاکرات میں بڑی پیش رفت، کیا معاہدہ قریب ہے؟ ایران کا بڑا دعویٰ سامنے آگیا

 



جنیوا میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہو گیا ہے، جس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ معاہدے کے بنیادی اصولوں پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے، تاہم کئی اہم معاملات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد کہا کہ ’معاہدے کی راہ شروع ہو چکی ہے‘ اور دونوں ممالک کے درمیان سنجیدہ بات چیت ہوئی۔ ان کے مطابق تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم نکات پر سمجھ بوجھ پیدا ہو گئی ہے، لیکن کچھ اختلافی امور پر مزید بات چیت درکار ہے۔ دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکا اسلامی جمہوریہ ایران کو تباہ نہیں کر سکتا۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی نقل و حرکت اور جنگ کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا مذاکرات کا دائرہ کار ایران کے میزائل پروگرام اور دیگر غیر جوہری معاملات تک بڑھانا چاہتا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ صرف اپنے جوہری پروگرام پر پابندیوں کے بدلے عائد اقتصادی پابندیاں ہٹانے پر بات چیت کرے گا اور یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر صفر کرنے کا مطالبہ قبول نہیں کرے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی اور ممکنہ تصادم کے خدشات موجود ہیں۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل